اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے بعض اراکین نے چیئرمین این ایچ اے اور دیگر حکام کی کارکردگی اور رویے پر اظہار برہمی کیا۔
ایم این اے حمید حسین نے کہا کہ چیئرمین این ایچ اے اسد اللہ نے میرا ٹیلی فون تک اٹینڈ نہیں کیا حتیٰ کہ آج کے دن تک بھی انہوں نے میرے ٹیلی فون کا جواب تک دینا بھی گوارا نہیں کیا۔
منگل کو این ایچ اے آڈیٹوریم میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اعجاز حسین جاکھرانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ کمیٹی کی سفارشات کے حوالے سے بریفنگ دی جائے۔
اجلاس شروع ہوتے ہی ایم این اے حمید حسین نے کہا کہ ہمارا فون چیئرمین این ایچ اے نہیں اٹھاتا نہ ہی ملنے کا ٹائم دیتا ہے، میں کس چیز کا ایم این اے ہوں؟ فون کا رپلائی تک نہیں کرتا، جس پر انہوں نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔
ایم این اے آغا رفیع اللہ اور دیگر اراکین نے حمید حسین کو منایا۔ ایم این اے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ این ایچ اے کا روڈ گھٹیا کوالٹی کا ہوتا ہے۔
ایم این اے شہریار خان مہر نے کہا کہ سکھر سے شکارپور کی سڑک 70 کروڑ روپے کی بنی جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
این ایچ اے حکام نے بتایا کہ جی ایم کو انکوائری کے بعد ہٹا دیا گیا ہے لیکن انہوں نے اسٹے لے لیا ہے۔ شہریار خان مہر نے کہا کہ غالباً 21 نومبر کو دوبارہ پیشی ہے۔
ممبر سندھ این ایچ اے نے کہا کہ سکھر شکارپور روڈ 15 سال پہلے بنا تھا۔ سیکرٹری مواصلات شیر علی محسود نے کہا کہ اس روڈ کے حوالے سے تمام چیزیں چیک کر کے بتائیں گے۔
ایم این اے شہریار مہر نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے 70 کروڑ روپے ضائع کردئیے گئے۔ ایم این اے بلال بدر نے کہا کہ جب سڑک ٹوٹتی ہے تو عوام ہمیں ذلیل کرتی ہے، آپ لوگ ہمیں بدھو بناتے ہیں، کام آپ خراب کرتے ہیں اور جوابدہ ہمیں ہونا پڑتا ہے۔
آغا رفیع اللہ نے کہا کہ وہ موٹروے پولیس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، کے پی کے لوگوں کو اسلام آباد ایئرپورٹ جانے کے لیے اسلام آباد کے اندر داخل ہو کر جانا پڑتا ہے، کے پی سے آنے والوں کے لیے ڈائریکٹ راستہ ہونا چاہیے۔
این ایچ اے حکام نے بتایا کہ اس حوالے سے کام آگے بڑھایا جا رہا ہے، جلد راستہ بن جائے گا۔ آغا رفیع اللہ نے تجویز دی کہ ایک رپورٹ منگوائی جائے جس میں پتا چلے این ایچ اے کے ہائی ویز کہاں کہاں ہیں، رپورٹ سب اچھا کی نہیں ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں:ایلون مسک نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز خرچ کردیے
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس پراجیکٹ کا پی ڈی حیدرآباد یا سکھر میں بیٹھے گا، اسلام آباد میں نہیں بیٹھنے دیں گے۔اجلاس میں سیالکوٹ سے کھاریاں موٹروے کے حوالے سے بتایا کہ دسمبر 2027ء تک اسے مکمل کر لیا جائے گا۔









