بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب میں معاشی انقلاب کا 3 سالہ منصوبہ، ’پیوٹ‘ کیا ہے، کتنی سرمایہ کاری متوقع اور کتنے افراد کو روزگار ملے گا؟

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پنجاب انوویشن فار ویلیو، اپرچونٹی اینڈ ٹرانسفارمیشن (Pviot) پروگرام صنعت، زراعت، سیاحت، ہنرمندی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جامع معاشی تبدیلی لانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ پروگرام 2026 سے 2029 تک نافذ العمل رہے گا، جس کا مقصد سرمایہ کاری میں اضافہ، برآمدات کو فروغ دینا، روزگار کے مفید مواقع پیدا کرنا اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔

اس پروگرام کے ذریعے سرمایہ کاری تک محدود رسائی، صنعتی انفراسٹرکچر کی خراب صورتحال، ہنرمند افرادی قوت کی کمی، پیچیدہ ضابطہ جاتی طریقہ کار اور توانائی کی بلند لاگت جیسے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پروگرام کے نتیجے میں پنجاب کی اوسط سالانہ معاشی شرح نمو میں بھی اضافے کی توقع ہے۔

‘منصوبے کے تحت لاکھوں لوگوں کو روزگار ملنے کی توقع’

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس 3 سالہ منصوبے سے 10 لاکھ افراد کی زندگیوں میں نمایاں بہتری آئے گی اور ان کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ منصوبے کے تحت ایک لاکھ 62 ہزار افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ برآمدات میں 6.8 ارب ڈالر اضافے کی توقع ہے۔

مزیدپڑھیں:کیا حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان معاملات طے ہونے جا رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ منصوبے پر عملدرآمد کے نتیجے میں نجی شعبے سے 906 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے، جبکہ حکومت تقریباً ایک ہزار نواسی ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ پیوٹ پروگرام صنعت، زراعت، سیاحت، ہنرمندی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں معاشی انقلاب لائے گا اور گیم چینجر ثابت ہوگا۔ پنجاب میں جامع معاشی تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیوٹ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں معاشی مواقع پیدا کیے جائیں گے، صنعتی ترقی اور برآمدات کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ سرمایہ کاروں کو بھی راغب کیا جائے گا۔ صنعتی شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے 753.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

مریم نواز شریف کے مطابق ہنرمندی کے فروغ کے پروگرام کے تحت 3 سال میں 4 لاکھ 2 ہزار 60 افراد کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مشینری پر ادا کردہ ڈیوٹی کی واپسی اور سولر و بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سرگودھا، خانیوال، اوکاڑہ اور بھکر میں 4 ایگرو پروسیسنگ پارکس قائم کیے جائیں گے، جہاں پھلوں کی پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور گریڈنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

قرض کتنا ملے گا اور کتنے پیسے رکھے گئے ہیں؟

صنعتی منصوبوں کے لیے صفر سے 5 فیصد کی رعایتی شرح پر 300 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ STEP فنانسنگ پروگرام کے تحت صنعتی ترقی اور برآمدات کو فروغ دیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت حکومت کی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک ہزار نواسی ارب روپے ہوگی، جبکہ نجی شعبے سے 906 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

کن صنعتوں کو فائدہ ہوگا؟

پیوٹ پروگرام سے ملبوسات، کھیلوں کے سامان، چمڑے اور جوتوں، ادویات، پنکھوں اور سرامکس سمیت متعدد صنعتی شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔ زرعی شعبے میں جدید مشینری کے استعمال، ذخیرہ کاری کے بہتر انتظامات، گوشت اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات کی پروسیسنگ، بیماریوں کی روک تھام اور کسانوں کو مالی معاونت کی فراہمی پر توجہ دی جائے گی۔

ایکوا فارمنگ کے تحت جھینگوں کی افزائش، ماہی گیری کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور برآمدی پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

سیاحت کے شعبے میں تاریخی اور مذہبی مقامات، لاہور کی نائٹ اکانومی، خطہ پوٹھوہار، چولستان، تفریحی سہولیات اور سیاحتی سرکٹس میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت، آئی ٹی انٹرن شپس، بین الاقوامی سرٹیفکیشنز، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن اور کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

سی بی ڈی پر کیا بنے گا؟

معروف صنعتکار عارف حبیب نے لاہور کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے منصوبے ’سی بی ڈی ون‘ میں پاکستان کی بلند ترین عمارت تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پیوٹ جیسے پروگراموں کی ضرورت ہے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی شخصیت میں انہیں محمد نواز شریف کی جھلک نظر آتی ہے۔

‘پنجاب انوویشن فار ویلیو پروگرام کا الگ سیکریٹریٹ ہوگا’

چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے بتایا کہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ میں پیوٹ سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جبکہ چیف سیکریٹری آفس میں بھی پیوٹ سیل تشکیل دیا جائے گا۔ ہر ضلع میں متعلقہ ڈپٹی کمشنر پیوٹ پروگرام کے فوکل پرسن کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے اور شفاف نگرانی کے ذریعے سرمایہ کاری کے عمل کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، صنعتی اراضی سے متعلق پالیسی اور لیبر قوانین کو کاروبار دوست بنانے کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔

بزنس مین کیا کہتے ہیں؟

صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں نے پیوٹ پروگرام کے اجرا کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ معروف صنعتکار میاں منشا نے امن و امان کی صورتحال میں بہتری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پیوٹ پروگرام کے ذریعے تمام امور کو مؤثر اور منظم انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔

سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا کہ محض 6 ماہ میں اس تصور کو عملی شکل دینا وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محمد نواز شریف کے وژن کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔