مریخ ممکنہ طور پر ارضیاتی اعتبار سے اتنا غیر فعال نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ مریخ کے ایک بہت بڑے آتش فشاں کے قریب پراسرار گیسوں کے اخراج سے متعلق نئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیارے کی سطح کے نیچے گہرائی میں اب بھی حرارت اور آتش فشانی سرگرمیاں موجود ہو سکتی ہیں۔
محققین نے مریخ کے آتش فشانی علاقے البا مونس میں زمین کی سطح پر موجود دراڑوں کے اوپر ہائیڈروجن کلورائیڈ گیس کی غیر معمولی مقدار کی نشاندہی کی ہے۔ اس دریافت سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ مریخ کے اندرونی حصے سے نکلنے والی گیسیں سطح کی دراڑوں کے ذریعے باہر آ رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر ایسی آتش فشانی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کر سکتی ہیں جو اب تک پوشیدہ رہی ہیں۔
الیگزینڈر ٹروخیموفسکی کی سربراہی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کا خیال ہے کہ یہ گیس زیرِ زمین موجود گرم پگھلے ہوئے مادے (میگما) سے خارج ہو سکتی ہے۔ اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مریخ پر اب بھی ایسے غیر فعال آتش فشانی نظام موجود ہیں جو گیسوں کو سیارے کی سطح تک خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یورپی خلائی ادارے (ای ای اے) کے ایکسپو مارس ٹریس گیس آربیٹر نے پہلی مرتبہ 2021 میں مریخ کے ماحول میں ہائیڈروجن کلورائیڈ گیس کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی۔ زمین پر یہ گیس عموماً میگما سے منسلک دہانوں اور دراڑوں کے ذریعے خارج ہوتی ہے، جس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ مریخ پر بھی اسی نوعیت کے قدرتی عمل جاری ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:حوثی حملوں کا خدشہ؛ مدینہ میں تعلیمی ادارے بند؛ آن لائن کلاسز ہونگی
پولش اکیڈمی آف سائنسز کے اسپیس ریسرچ سینٹر کے پروفیسر اور تحقیق کے شریک سربراہ ڈینیئل میج کے مطابق تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مریخ نے اپنے اندرونی حصے میں اتنی حرارت برقرار رکھی ہے جو حالیہ ماضی تک آتش فشانی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے کافی تھی اور ممکن ہے کہ یہ سرگرمیاں اب بھی جاری ہوں۔








