بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 پاکستان کا F-16 اپگریڈ معاہدہ: بھارت کا امریکی دہرے معیار پر شدید اعتراض

واشنگٹن/نئی دہلی: امریکہ کی جانب سے پاکستان کے F-16 جنگی طیاروں کو جدید بنانے کے فیصلہ کے بعد بھارت نے واشنگٹن کی پالیسیوں اور مبینہ دہرے معیار پر شدید تنقید کی ہے۔

بھارتی نقادوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایک طرف امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت اور اس پر حملے کر رہا ہے تو دوسری جانب اپنے ایٹمی صلاحیت کے حامل اتحاد کو ملٹری اپ گریڈیشن فراہم کر رہا ہے۔

بھارتی نقادوں کا موقف ہے کہ ایک طرف تو امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے نام پر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں اور حملے کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایشیا میں اپنے ایٹمی صلاحیت کے حامل حلیف ملک پاکستان کی ایئر فورس کو اربوں روپے کا فوجی سامان اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔ بھارتی حلقوں نے امریکی خارجہ پالیسی کے اس تضاد کو خطے کے لیے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔

اگرچہ 68 کروڑ 60 لاکھ (686 ملین) ڈالر کے اس جدید ترین ملٹری پیکیج میں براہِ راست ایٹمی ہتھیار شامل نہیں ہیں، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اپ گریڈیشن سے پاکستانی فلیٹ کے طیاروں کی نیویگیشن، مواصلاتی نظام (Communication Systems)، اور جنگی حالت میں بقا (Survivability) کی صلاحیتوں میں زبردست اضافہ ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جدید ترین تکنیکی بہتری بھارت کے خلاف پاکستان کی موجودہ فضائی اور ممکنہ ایٹمی اسٹرائیک کی صلاحیتوں (Nuclear Strike Capabilities) کو مزید موثر اور مضبوط بنا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:لاہور، ڈی جی آئی ایس پی آر کا 3 جامعات کا دورہ، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی نشستیں

اطلاعات کے مطابق گزشتہ ماہ کے آخر میں فلپائن کے شہر سیبو (Cebu) میں منعقدہ آسیان ڈیفنس منسٹرز میٹنگ (ADMM) کے حاشیے پر بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگسیتھ (Pete Hegseth) کے ساتھ ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں بھارتی وزیرِ دفاع نے امریکی حکام سے پاکستان کو دیے جانے والے F-16 پروگریس اور اپ گریڈیشن پروگرام پر اپنے شدید تحفظات کا باقاعدہ اظہار کیا۔