بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اب دنیا ہمیں پیسے بھی نہیں دیتی، وزیرخزانہ

کراچی(نیوزڈیسک) وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نےاعتراف کیا ہے کہ اب ہمیں دنیا پیسے بھی نہیں دیتی ہے، بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے قرضہ لینا پڑتا ہے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈھکی چھپی بات نہیں ملک پیچھے رہ گیا ہے، اس لیے قوم کیلئے پائیدار ترقی کا سوچنے کی ضرورت ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ہم نے تاجروں پرتین ہزار ٹیکس لگانے کی تجویز دی، سپر ٹیکس لگایا تو لوگوں کر برا لگ رہا ہے، سیلز ٹیکس زیادہ ہے تمام لوگ ٹیکس نیٹ میں ہیں، ملک میں ٹیکس اکھٹا کرنا بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملکی برآمدات کو بڑھانے کی ضرورت ہے، ہم نے اپنا کام کرلیا، اب آئی ایم ایف بھی اپنا کام جلد کرے گی ، امید ہےمعیشت گروتھ کی طرف جائےگی۔
قبل ازیں مفتاح اسماعیل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا دورہ کیا جہاں انہوں نے روایتی طور پر گھنٹہ بجا کر کاروبار کا آغاز کیا۔ اپنے دورے کے دوران صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی رہنما نے ریٹیلرز کے لئے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کے نفاذ کو مؤخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ خسارہ 35 سو ارب روپے پہنچ چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سخت فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے معاملے پر مزید مشاورت کے بعد نیا لائحہ عمل بنایا جائے گا، ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا بینکوں سے کوئی تعلق یا ان کا عمل دخل نہیں ہے، عالمی ادائیگیوں کی وجہ سے روپے پر دباؤ بڑھا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمارے گذشتہ دور میں بجٹ خسارہ 1600 ارب تھا جو گزشتہ چار سال میں بڑھ کر 3500 ارب کی سطح پر آگیا ہے، کوشش ہے کہ آئندہ چھ ماہ امپورٹ بل کو کم رکھیں تاکہ بجٹ خسارہ کم ہوسکے، ملکی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے مشکل فیصلے کئے، جلد چیزیں بہتر ہوجائیں گی۔