بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جسٹس جاوید اقبال نے بطور چیئرمین نیب 7 کروڑ 30 لاکھ روپے تنخواہ لی،تفصیلات سینیٹ میں پیش

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینیٹ کے اجلاس میں سابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی تنخواہ اور مراعات کی تفصیلات پیش کردی گئیں، جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بطور چیئرمین نیب 7 کروڑ 30 لاکھ روپے تنخواہ لی ۔
سینیٹر عرفان صدیقی کی طرف سے پوچھا گیا تھا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بطور نیب چیئرمین، بطور چیئرمین جبری لاپتہ افرادکمیشن اور بطور ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ کیا تنخواہ اور مراعات ملی ہیں؟ جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تفصیلات پیش کیں۔
وزارت قانون کی طرف سے بتایا گیا کہ جسٹس (ر) جاویداقبال کی بطور چیئرمین لاپتہ افرادکمیشن تنخواہ کا علم نہیں ، نہ ہی وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ کے طور پر جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی پنشن اور مراعات کیا ہیں؟ تاہم بطور چیئرمین نیب انہوں نے مجموعی طور پر 7 کروڑ 30 لاکھ 5ہزار930 روپے تنخواہ کی مد میں وصول کیے۔
ان کی ماہانہ تنخواہ بارہ لاکھ 39 ہزار روپے جبکہ 6 ہزار ماہانہ فون بل کی مد میں ملتے تھے، اس مد میں انہوں نے تین لاکھ 40ہزار 465 روپے وصول کیے، انہیں ماہانہ 68 ہزار روپے کرایہ مکان الاونس کی مد میں بھی ملتا تھا۔
تحریری جواب میں بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس کی ماہانہ تنخواہ چار لاکھ 48ہزار221 روپے ہے۔ ہر جج کو ایک لاکھ96 ہزار219 روپے سپیریئر جوڈیشل الاونس بھی ملتا ہے۔ 15فیصد میڈیکل الاونس بھی ملتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد تنخواہ کے 70 فیصد سے 85 فیصد تک پنشن ملتی ہے۔ اسکے علاوہ ایک ڈرائیور، ایک ملازم، سکیورٹی گارڈ، ماہانہ 300 مفت فون کالز، دو ہزار یونٹ مفت بجلی، 25 ایم ایم مفت گیس بھی ملتی ہے۔ اُسےکوئی انکم ٹیکس نہیں دینا ہوتا۔ بطور ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج، جسٹس (ر) جاوید یہ ساری مراعات بھی لے رہے ہیں۔