بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’شہباز گل نے جو کہا وہ خطرناک ہے‘، نسیم زہرہ کا بی بی سی کو انٹرویو

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف مبینہ غداری کے مقدمے کے اندراج کے بعد اُن کا وہ بیان سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جو اس مقدمے کی وجہ بنا۔ پی ٹی آئی رہنما اور پارٹی کے حامی یہ سوال اٹھاتے نظر آئے کہ شہباز گل کے بیان اور سیاست دانوں، بشمول سابق وزیر اعظم اور قائد ن لیگ نواز شریف، کی فوج پر تنقید میں کیا فرق ہے جس کی بنیاد پر شہباز گل کے بیان پر تو کارروائی کی گئی مگر دوسرے کیسز میں نہیں۔

واضح رہے کہ شہباز گل کو گذشتہ روز اسلام آباد میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد آج ان کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ دو دن سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تحریک انصاف کے حامی صارفین بھی متعدد سیاستدانوں کے مختلف بیانات کے کلپس شیئر کر رہے جن میں سیاسی رہنما اداروں پر تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کلپس کے ساتھ صارفین کا یہی سوال ہے کہ کارروائی اس بیان پر ہی کیوں؟

بی بی سی نے تجزیہ کاروں سے اس سوال کا جواب پوچھا اور اس تحریر میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا شہباز گل کا بیان اور دیگر سیاسی رہنماوں کی تنقید ایک ہی ضمرے میں آتے ہیں یا ماضی میں ن لیگ یا پیپلز پارٹی کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف سامنے آنے والے بیانات کا تناظر مختلف تھا۔

بدھ کے دن جب شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انھوں نے میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’ادارے ہماری جان ہیں، کبھی اداروں کے خلاف بیان نہیں دیا۔‘

ادھر اے آر وائی چینل نے شہباز گل کے بیان کے بعد موقف دیا کہ یہ بیان شہباز گل کا ذاتی موقف تھا، چینل کی پالیسی یہ نہیں۔‘

سیاسی رہنماؤں کے ماضی کے بیانات
لیکن سوشل میڈیا صارفین نے قائد ن لیگ نواز شریف، سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف زرداری، سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمان کے علاوہ دیگر سیاست دانوں کے ایسے بیانات شیئر کیے جن میں فوج پر تنقید کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ سے نااہل ہونے اور سزا پانے کے بعد جب نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو انھوں نے عوامی رابطہ مہم کے دوران اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی تھی اور فوج کو بطور ادارہ آئین کی پاسداری کرنے کی تاکید کی تھی۔

اسی طرح ان کا وہ بیان بھی شیئر کیا جا رہا ہے جس میں وہ اپنے بھائی اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ’گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہیے تھا لیکن گرفتار شہباز شریف کو کر لیا گیا۔ عاصم سلیم باجوہ نے اربوں روپے کیسے بنا لیے؟ اس کا حساب کسی نے نہیں پوچھا؟‘

اسی طرح خواجہ آصف کا ماضی میں قومی اسمبلی میں دیا گیا ایک بیان بھی سوشل میڈیا پر کافی دیکھنے کو ملا جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے سیاچن ہارا، ہم نے پوچھا اُن سے۔۔۔ انھوں نے کارگل ہارا، ہم نے پوچھا۔۔۔‘

ایسے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا شہباز گل کا بیان بھی اسی تنقید کے زمرے میں آتا ہے اور کیا باقی رہنماؤں پر بھی ایسے کیسز بن سکتے تھے؟

’شہباز گل نے جو کہا وہ خطرناک ہے‘
بی بی سی سے گفتگو میں اینکر پرسن اور تجزیہ کار نسیم زہرہ کا ماننا تھا کہ ان بیانات کا پس منظر الگ تھا۔

’ایک تو یہ ہے کہ آپ فوج کے بجٹ، اس کی سیاست میں مداخلت اور معاشی کاموں پر تنقید کریں جو کہ ہم سب کرتے ہیں۔ لیکن دوسرا یہ ہے کہ ایک ادارہ ہے جو چلتا ہی ڈسپلن پر ہے، اس کے اہلکاروں کو کہا جائے کہ وہ افسران کے احکامات نہ مانیں۔‘

نسیم زہرہ کے مطابق ’میں نے شہباز گِل کو سنا جس میں وہ کہتے ہیں کہ آپ جانور نہیں انسان ہیں، اپنی عقل استعمال کرنے کی کوشش کریں۔۔۔ میں بالکل واضح ہوں کہ یہ بہت خطرناک ہے اور اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، یہ تو آپ صاف الفاظ میں ان کو بغاوت کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘

تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’سیاست دان قومی اسمبلی کے اندر جو بھی کہتے ہیں اس کو تو قانونی طور پر کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔‘

’پارلیمنٹ کے اندر جو تنقید ہوتی ہے اس کے خلاف تو کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی، وہاں کہی گئی کوئی بھی بات چاہے کسی کے بھی خلاف ہو، کتنی ہی سخت ہو اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اگر مختلف سیاست دانوں نے پارلیمان کے علاوہ کسی اور فورم پر فوج کے خلاف بات کی تھی تو اُن (تحریک انصاف) کو اس وقت نوٹس لینا چاہیے تھا، وہ مقدمات کر سکتے تھے۔

مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کو پہلے تو شہباز گِل کی کہی گئی بات پر اپنی پارٹی کی جانب سے وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ اس سے متفق ہیں یا نہیں۔‘

’عمران حان اور پی ٹی آئی کو شہباز گل کے بیان پر اپنا موقف دینا چاہیے۔ جس چینل پر یہ بیان آیا اس نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔‘

تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے معاملات قانون سے حل نہیں کیے جا سکتے، ’پی ٹی آئی اپنا موقف دے، شہباز گِل تاسف کا اظہار کریں اور عمران خان اپنے کارکنوں کو تاکید کریں کہ وہ ایک حد میں رہ کر اپنی رائے دیں تو معاملے کو نمٹا دیا جا سکتا ہے۔ قومی اداروں کو متنازع نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

لیکن دوسری جماعتیں بھی تو فوج پر تنقید کرتی رہی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’اگر فوج اقتدار میں نہیں ہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے تو دنیا میں کہیں بھی یہ کلچر نہیں کہ فوج کو مذاکروں اور مباحثوں میں موضوع بحث بنایا جائے۔‘

ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ شہباز گل کا معاملہ فوج پر تنقید کا نہیں، بلکہ فوجی اہلکاروں کو حکم عدولی پر اُکسانے کا ہے اور عام معمول کی تنقید سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

تحریک انصاف کا موقف
سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بدھ کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شہباز گل نے جو کہا اور اگر وہ قانون کے خلاف ہے تو اسے عدالت میں جا کر اپنا مؤقف دینے کا حق ہے، لیکن جس طرح سے اس کی گاڑی توڑی گئی اور اسے اٹھایا گیا، یہ سب کس قانون کے تحت ہوا؟‘

ان معاملے پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صرف یہ دیکھ لیں کہ شہباز گل نے کیا کہا اور جو ہم پر غداری کے فتوے لگانے والے ہمارے خلاف کیا کہتے رہے۔‘

انھوں نے کہا تھا کہ ’جمہوری معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا۔۔۔ قانون توڑنے پر اسے وضاحت کا موقع دیں۔‘

ادھر تحریک انصاف کے رہنما اور سیکریٹری جنرل اسد عمر نے بدھ کے دن لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’ہو سکتا ہے کہ شہباز گل نے جو بات کی ہو وہ ٹھیک نہ ہو، مگر اس پر ایک قانونی راستہ موجود ہے۔‘

انھوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف ایک مقدمہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے، اور اس کے خلاف دو طریقے سے حملہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو فوج مخالف قرار دینے اور الیکشن کمیشن کے ذریعے پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن اہم حکومتی اتحادی وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے شہباز گل کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو اس سے برات کا اظہار کرنا چاہیے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ شہباز گل نے اداروں کے خلاف بات کی ہے اور اس بیان کا فائدہ نہیں بلکہ صرف نقصان ہی ہوا ہے۔