افریقی ملک سیرا لیون میں مہنگائی بے قابو ہوگئی جس کی وجہ سے عوام نے صدر مملکت جولیئس مادا بائیو سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیرا لیون میں مہنگائی اور ایندھن کے بحران نے عوام کا جینا اجیرن کردیا ہے۔ مہنگائی کی ستائی عوام اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے سڑکوں پر نکلی تو حکومت کی جانب سے کرفیو نافذ کردیا گیا۔
سیرا لیون کےدارالحکومت فری ٹاؤن کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور ٹائرز بھی نذر آتش کیے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔
بازاروں کی بندش کے باعث شہریوں کو ضروری اشیاء کی خریداری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق حکومت مخالف احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں درجنوں افراد جان سے گئے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کا طوفان ہے۔ بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔ موجودہ حکومت حالات پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، ملکی مفاد کے لیے بہتر ہے کہ صدر جولیئس مادا بائیو فوری مستعفی ہوجائیں۔
دوسری جانب سیرالیون کے صدر جولیئس مادا بائیو کا کہنا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔ کسی بھی فرد کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
نائب صدر محمد جولدہ جالو نے سرکاری ٹی وی پر کہا ہے کہ ملک بھر میں احتجاج کے دوران ہلاکتوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ حکومتی عہدیداران کا کہنا ہے کہ مغربی افریقی ملک میں بگڑتے حالات کے پیش نظر کرفیو نافذ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے محفوظ رہا جاسکے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو کرفیو پر عملدرآمد کروانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اس سے قبل قومی سلامتی کے ترجمان نے سکیورٹی فورسز کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں ڈاکٹروں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی مراعات میں کمی کے باعث گزشتہ کئی روز سے ہڑتال کر رکھی ہے۔









