اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزارت داخلہ نےنجی نیوزچینل ’’ اے آر وائی‘‘کا این او سی منسوخ کردیا۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق نجی نیوزچینل ’’ اے آر وائی‘‘کی سکیورٹی کلیئرنس (این او سی )ایجنسیوں کی طرف سے منفی رپورٹس کو بنیاد بناتے ہوئے منسوخ کی گئی ہے۔ اس فیصلے کی روشنی میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا)نے بھی ’’ اے آر وائی‘‘کی مزید 15سال کے لئے لائسنس میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کردی۔
دریں اثنااے آروائی انتظامیہ نے اسے انتقامی کارروائی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ یہ فیصلہ وزیرداخلہ راناثنااللہ کی زیرصدارت اجلاس میں کیاگیا اس سے ہزاروں کارکنوں کا روزگار ختم اورتقریباً چارہزارسے زائد خاندانوں کے چولہے بجھ گئے ہیں۔دریں اثنا صحافتی تنظیموں، قانونی ماہرین نے حکومت کے اس انتہائی اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں جاری کئے گئے شوکاز ںوٹس میں پندرہ اگست تک جواب مانگاگیاتھا مگر اس سے پہلے چینل کا این او سی منسوخ کردیاگیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فوادچودھری،فرخ حبیب اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد نے اے آروائی کا این او سی کئے جانے کی شدید مذمت کی۔اپنے الگ الیگ مذمتی بیانات میں انہوں نے کہاکہ فاشسٹ حکومت کے دور میں آذادی صحافت پر شب خون مارا جارہا ہے صحافی آزادانہ طور بات نہیں کرسکتے ،ایف آئی آرز ،گرفتاریوں کا سامنا اور ٹی وی چینلوں پر پابندیاں لگائی جارہی ہے۔ حق اورسچ کی آواز کو دبانے والے عوام دشمنی اور ملک کا نقصان کررہے ہیں۔
وزارت داخلہ نے اے آر وائی چینل کی سکیورٹی کلئیرنس ایجنسیوں کیطرف سے منفی رپورٹس کو بنیاد بناتے ہوئے منسوخ کر دی ہے pic.twitter.com/PPltaVlk3y
— Umar Cheema (@UmarCheema1) August 12, 2022









