اسلام آباد(نیوزڈیسک) سینئر صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہےکہ ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب پر شہباز گل کو اسلام آباد نہ بھیجنےکے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
حامد میرکے مطابق آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو فون پرکہا کہ شہباز گل کی مدد کریں، مسٹر ایکس سے آرڈر مت لیں۔
انہوں نے کہاکہ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب پر بھی شہباز گل کو سہولتیں دینےکے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میرنے کہاکہ ایڈیشنل ہوم سیکرٹری پنجاب کو آج پی ٹی آئی کی ایک اہم شخصیت نے فون کیا اور کہاکہ شہباز گل کو پمز اسلام آباد منتقل کرنے کی بجائے راولپنڈی کے کسی ہسپتال منتقل کریں اوران کو جیل میں مکمل سہولتیں دیں جس پر انہیں بتایاگیا کہ شہبازگل وفاقی حکومت کے قیدی ہیں ،ان کا مقدمہ اسلام آباد میں درج کیا گیا اور اسلام آبادپولیس ہی مقدمے کی مدعی ہے اس لئے ہم وفاقی حکومت کے قیدی کے طور پر انہیں دیکھ رہے ہیں۔اس پر ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کو کہاگیاکہ ایک اہم فوجی افسرجن کو عمران خان کئی بار مسٹرایکس کہہ چکےہیں ، آپ ان سے آرڈرمت لیں ۔آئی جی پنجاب نے بھی ہوم سیکرٹری سے سخت لہجے میں بات کی جس کے بعد آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات پنجاب سے بھی بات کی گئی۔
حامد میرکے مطابق کہاجارہاہے کہ عمران خان براہ راست پنجاب کے بیوروکریٹس خصوصاًہوم ڈیپارٹمنٹ کے افسران کو فون کررہے ہیںاور ان سے کہہ رہے ہیں کہ آپ شہبازگل کے معاملے پر وفاقی حکومت کی بات نہ سنیں۔
حامد میرکے مطابق اس نئی پیشرفت سے وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی نے جو تیرہ اگست کی رات لاہور کے جلسے میں دعویٰ کیاتھاکہ عمران خان اورفوج کے درمیان معاملات ٹھیک ہوگئے ہیں اس دعوے کی بھی نفی ہوئی ہے۔
دوسری جانب سرکاری ذرائع کا بھی کہنا ہےکہ شہباز گل کے طبی معائنےکے معاملے پر پنجاب حکومت کی ہدایت پر اڈیالہ جیل انتظامیہ اسلام آباد پولیس سےتعاون سےگریزاں ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق قانون کے تحت اسلام آباد پولیس نے شہباز گل کا طبی معائنہ کروانا ہے، بتایا جا رہا ہےکہ شہبازگل طبی معائنےکے لیے اسلام آباد پولیس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں۔
خیال رہےکہ شہباز گل کو طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے پمز اسلام آباد منتقل کیا جانا ہے۔
دریں اثناعسکری ذرائع نے کسی فوجی افسر کے کہنے پر شہبازگل پر تشددکے تاثر کو مسترد کردیا۔عسکری ذرائع کا کہناہے کہ شہبازگل کے معاملے سے ان کا کوئی لینادینانہیں ہے،وہ جس جیل میں ہیں وہ پنجاب حکومت کے تحت ہے ۔ﷻ









