اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ برطانیہ سے بےدخلی کا معاہدہ ہمارے لیے منفی جائے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے جاری کردہ پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ غریب مہنگائی میں جل رہا ہے اور حکمران نیرو بانسری بجا رہا ہے، حکمرانوں نے نوٹ بینک بچانے کے لیے ووٹ بینک کو قربان کر دیا۔
غریب مہنگائی میں جل رہا ہے اور حکمران نیرو بانسری بجا رہا ہے۔ حکمرانوں نے نوٹ بنک بچانے کے لیے ووٹ بنک کو قربان کر دیا۔ نواز شریف کی واپسی طے نہیں پا سکی۔ افغانستان میں بھی رجیم چینج شروع ہو گیا ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہو گا۔برطانیہ سے بےدخلی کا معاہدہ ہمارے لیے منفی جائے گا
— Sheikh Rashid Ahmed (@ShkhRasheed) August 18, 2022
‘نواز شریف کی واپسی طے نہیں پاسکی’
سابق وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی طے نہیں پاسکی، افغانستان میں بھی رجیم چینج شروع ہوگیا ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ سے بےدخلی کا معاہدہ ہمارے لیے منفی جائے گا، چین کی رضا مندی کے بغیر (سی پی ای او) اتھارٹی ختم کرنا سامراجی ایجنڈا ہے، چین کے خلاف اسی کام کے لیے انکو لایا گیا ہے۔
‘مرکز اور صوبے کی پولیس کو آمنے سامنے کھڑا کردیا گیا ہے’
شیخ رشید نے مزید کہا کہ عمران خان 8حلقوں میں اہل ہے اور فیصل آباد میں نااہل، یہ کیسا قانون ہے؟ 30 اگست کو غریب پر 10روپے فی لیٹر کی مزید چھری پھرے گی، مرکز اور صوبے کی پولیس کو آمنے سامنے کھڑا کردیا گیا ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کی واپسی کا معاہدہ طے پا گیا
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی واپسی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔
برطانوی وزیرداخلہ پریتی پٹیل نے گزشہ روز اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ مجرموں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی واپسی کے لیے اہم معاہدے پر دستخط کیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ مجرموں کی حوالگی کامعاہدہ امیگریشن سے متعلق نئے برطانوی منصوبے کا حصہ ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال جنوری میں برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی تحویل کے معاہدے کے حوالے سے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے کہا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی واپسی کے معاہدے پر بہترین عوامی مفاد میں دستخط کیے جائیں گے۔
17 جنوری کو ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ برطانیہ کے ساتھ مجرموں کی واپسی کے معاہدے پر بہترین عوامی مفاد میں دستخط کیے جائیں گے، معاہدے کو وفاقی کابینہ میں لے جانے سے پہلے برطانیہ سے مزید مشاورت کی جائے گی، برطانیہ سے مشاورت کے بعد معاہدے کو وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔









