مظفرآباد(محمد شبیر اعوان)آزادکشمیر کے عبوری آئین 1974ءمیں 15 ویں ترمیم کا ڈراپ سین،پانچ دن کی مشقت کے بعد حکومت نے لوکل باڈیز الیکشن ترمیمی بل واپس لے لیا۔حکومت کی بلدیاتی الیکشن کے لیے سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل میں مزید چھ ماہ کی مہلت کی استدعا۔سماعت آج متوقع۔جمعرات کے روز آزادکشمیر حکومت نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کی ہے جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے 15اکتوبر سے قبل بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی ڈیڈ لائن پر نظر ثانی کی استدعا کی گئی ہے۔حکومت کی جانب سے معروف قانون دان راجہ سجاد ایڈووکیٹ نے نظر ثانی اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات ایسے موسم میں ہورہے ہیں کہ جب آزادکشمیر کے لوگ زمینداریوں میں مصروف ہوتے ہیں جبکہ مون سون کی وجہ سے موسم بھی ناسازگار ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی سماعت عدالت العالیہ اور عدالت العظمی میں ہونا ہے۔ووٹر فہرستوں کی اپ گریڈیشن بھی نہیں ہوئی جبکہ وفاقی حکومت نے فنڈز کی فراہمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمک کی فراہمی سے بھی معذرت کی ہے چنانچہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے چھ ماہ کا مزید وقت دیا جائے۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے شیڈول جاری کررکھا ہے اور 28ستمبر کو پولنگ ہونا ہے۔حکومت نے بلدیاتی انتخاب کے التواءکے لیے اس سے پہلے آئین میں پندرہویں ترمیم کا بل قانون ساز اسملبی میں پیش کیا جس کے تحت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اختیار الیکشن کمیشن سے لے کر الیکشن کمشنر بلدیات کو سونپنے اور الیکشن کمشنر بلدیات کے قیام کی تحریک کی گئی تھی جس پر قائمہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ بھی تیار کرلی تھی تاہم بلدیاتی انتخاب کے انعقاد کے لیے سپریم کورٹ کے احکامات اور حکومت کی جانب سے الیکشن کمشنر بلدیات کے قیام کی کوشش کے باعث سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال محسوس کی جا رہی تھی حکومت نے الیکشن کمشنر بلدیات کے قیام کے لیے آئین میں پندرہویں ترمیم کا بل واپس لے لیا جمعرات کے روز قانون ساز اسمبلی کے سات منٹ جاری رہنے والے اجلاس میں مشیر حکومت چوہدری رفیق نیئر کی تحریک پر قاعدہ معطل کر کے واپس لے لیا گیا۔جبکہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی نظر ثانی اپیل پر آج سماعت کے بعد فیصلہ متوقع ہے۔بلدیاتی انتخابات کے التواءکے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے تھا ،ممبران اسمبلی نے اپنے اختیارات اور ترقیاتی فنڈز بچانے کے لیے بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے التواءاور پندرہویں ترمیم پر اتفاق رائے نہیں تھا ،آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت بھی موجود نہیں تھی چنانچہ درمیانی راستہ تلاش کر کے مفاہمت کی پالیسی کے تحت آگے بڑھنے کا سوچا گیا۔قانون ساز اسمبلی کے حالیہ سیشن کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے باہمی گٹھ جوڑ نے آزادکشمیر کی سیاسی اشرافیہ کو بری طرح بے نقاب کیا ہے جو اپنے مفادات کے لیے تمام تر اختلافات بھلا کر اکٹھے ہوگئے۔جمعرات کے روز قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے
آزادکشمیر کے عبوری آئین 1974ءمیں 15 ویں ترمیم کا ڈراپ سین ہوگیا








