اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ عمران خان 4 سال کسی کے سہارے پر ملک پرمسلط رہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مریم اورنگزیب کاکہنا تھا کہ میڈیا کے ذمہ دار لوگ آج عمران خان کی تقریرسن رہے تھے، یہ شخص کہتا ہے آزاد میڈیا سے کوئی خوف نہیں مگر جب میڈیا کی آزادی کا قتل کیا جارہا تھا عمران خان وزیراعظم تھے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عمران خان میں جھوٹ بولنے کا بہت حوصلہ ہے، ان جھوٹوں کا جواب دے دے کر تھک گئی ہوں ان کا مقصد صرف جھوٹ بولنا،فساد اور فتنہ پھیلانا ہے۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ جب نوازشریف اور ان کی بیٹی کو گرفتار کیا گیا تو عمران خان وزیراعظم تھے، ان کے کرائے کے ترجمان میڈیا پر مہم چلاتے تھے، ان کے دور میں کالے قانون لائے گئے، سنسرشپ عائد کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ توشہ خان اور فارن فنڈنگ میں ان کا کوئی بندہ پیش نہیں ہورہا ہے، بہتری اسی میں ہے ریکارڈ دے دیں ورنہ ریکارڈ لینا آتا ہے، اگر خان صاحب پیش نہیں ہوئے تو سن لیں، وزیرداخلہ راناثناء اللہ ہیں۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بہت بڑا اکاؤنٹ پکڑا گیا ہے کل پریس کانفرنس میں بتاؤں گی، جو ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوتا اس کو گرفتار کرناچاہیے۔
وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ کا کہنا تھا کہ میڈیا، ملک اور عوام آزاد ہوچکے،آپ کے اندر جانے کا وقت ہے، نوازشریف اورشہبازشریف خودقانون کےسامنےپیش ہوتےتھے، کیوں آپ کو ایف آئی اے میں پیش نہیں ہونا چاہیے۔
قبل ازیں ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے عمران خان کے میڈیا سیمینار کو منافقت قرار دیا۔
ان کا کہناتھا کہ میڈیا دشمن کس منہ سے میڈیا سیمینار کروا رہا ہے شرم آنی چاہیے، عمران خان میڈیا کا معاشی قتل کرنے والا مجرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم کی کُرسی پر بیٹھ کر میڈیا دشمنی کی، عمران خان کا دور میڈیا کے لئے سیاہ دور تھا، عمران خان صاحب جھوٹے کرپٹ فارن ایجنٹ میڈیا دشمن اور منافق ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میڈیا کو فیصلہ کرنا ہے کہ میڈیا کے خلاف نیب کو استعمال کرنے والا اور پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے بانی کے میڈیا سیمنار میں جانا ہے کہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ چار سال میڈیا کا قتل کرنے والا، میڈیا سیمینار کرنے کا تماشہ نہ کرے، میڈیا کو کمزور کرنے کے لئے میر شکیل الرحمان کے نیب گردی کی، پی ایف یو جے، سی پی این ای اور پی بی اے کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ میڈیا کو کمزور کرنے والے کے سیمینار میں جانا ہے کہ نہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ صحافت کا قتل، صحافیوں کو گولیاں مارنے والا، میڈیا کی زبان بندی کرنے والے کے میڈیا سیمینار میں جانا ہے کہ نہیں، میڈیا کو فیصلہ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ جس کو عالمی اداروں نے میڈیا پریڈیٹر کا خطاب دیا ہے اُن کے سیمینار میں جانا ہے کہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اُن کی آزادی اور نوکری چھیننے والے کے سیمینار کے تماشے کو ماننا ہے کہ نہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ سی پی این ای کی 2020 انٹرنیشنل میڈیا واچ اور رپورٹرز ودآئوٹ بارڈرز (آر ایس ایف 2021) کی رپورٹس عمران خان کی میڈیا دشمنی کی گواہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان چار سال وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر میڈیا دشمنی کرتے رہے، انٹرنیشنل میڈیا واچ نے عمران خان کو فاشسٹ قرار دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے چار سالوں میں صحافیوں کی پسلیاں توڑیں، انہیں اغواء کیا، میڈیا کی آزادی کو کچلا، پارلیمان کو تالے لگوائے، انہوں نے میڈیا کو نیب کے ذریعے کنٹرول کیا اور میڈیا ورکرز کو بے روزگار کیا۔








