مظفرآباد (محمد شبیر اعوان) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آذاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان،جسٹس خواجہ نسیم احمد اور جسٹس رضا علی خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومتی درخواست پر بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے مقرر کردہ تاریخ میں مزید 6 ہفتے کی توسیع کر دی ہے ، عدالت عظمیٰ نے 30 نومبر 2022ءسے قبل ڈویژن وائز بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کامختصر حکم نامہ جاری کر دیاہے ۔اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 15 اکتوبر سے پہلے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا حکم جاری کیا تھا جس کے خلاف حکومت آزاد کشمیر نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی اپیل دائر کی تھی کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مالی مسائل اور دیگر تکنیکی وجوہات کی بناءپر 6 ماہ کی توسیع کی منظوری صادر فرمائی جائے جس کی سماعت کے دوران عدالت حکومت کی جانب سے تاخیری حربے اور حیلے بہانے گھڑنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کیا کہ کہا کہ عدالت عظمیٰ اپنے فیصلہ جات پر عملدرآمد کروانا جانتی ہے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ وہ عوام کے بنیادی انسانی حقوق سلب نہیں ہونے دیں گئے سپریم کورٹ نے حکومت کی یقین دہانی اور تحریک پر فیصلہ دے رکھا ہے یہ تاثر غلط ہے کہ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیوں یونین کونسل اور وارڈ یا ٹاؤن کمیٹی کے لئے آبادی کی حد مقرر کی ہے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کا ہے انہوں نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ ان کا فیلیئر کورٹ یا الیکشن کمیشن پر نہ ڈالا جائے، جسٹس خواجہ نسیم احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کے دوران سیکورٹی کے لیے نفری کم ہے تو تینوں ڈویژنز میں مرحلہ وار الیکشن کرائے جائیں تاکہ اپنی سیکورٹی فورسز کی کافی یوں جسٹس رضا علی خان نے کہا کہ ایک طرف حکومت کا موقف ہے کہ مالی وسائل نہیں دوسری طرف حکومت مہنگی گاڑیوں کی خریداری کر رہی ہے سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے راجہ سجاد ایڈووکیٹ ، ایڈووکیٹ جنرل مقبول وار ، جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکرٹری الیکشن کمیشن، راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ ، راجہ گل مجید ایڈووکیٹ ، ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ ، وحید بشیر ایڈووکیٹ بار کونسل اور وکلاءکی جانب سے پیش ہوئے ۔ راجہ سجاد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ حکومت مالی مسائل کا شکار ہے جبکہ موسمی صورتحال اور پاکستان میں سیلاب کی وجہ سے امن و امان کے قیام کے لیے مطلوبہ نفری دستیاب نہ ہے لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے 28 ستمبر کی دی گئی ڈیڈ لائن میں 6 ماہ کی توسیع کی جائے ۔ ہائی کورٹ بار اور بار کونسل کے وکلاءنے توسیع کی استدعا مسترد کرنے کے حق میں دلائل دیئے ۔ عدالت نے نماز جمعہ سے پہلے فریقین کے دلائل سنے ۔ نماز جمعہ کے وقفہ کے بعد وکلاءتنظیموں کے دلائل بھی سنے گئے اور فیصلہ محفوظ کیا گیا بعد ازاں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے مختصر حکم نامہ جاری کیا کہ بلدیاتی انتخابات 30 نومبر سے پہلے ہر صورت ڈویژن کی سطح پر منعقد کروائے جائیں ۔ بلدیاتی انتخاب کے انعقاد کا حکم نامہ سپریم کورٹ نے اس سے پہلے جاری کیا تھا جس کے خلاف حکومت نے اپیل دائر کی تھی ۔ بلدیاتی انتخاب کے انعقاد کے لیے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر قائم روبکار بنام آزاد کشمیر حکومت میں مختصر فیصلہ کے بعد اب آزا دکشمیر میں بلدیاتی انتخاب کے لیے فضا ہموار ہو گئی ہے ۔ سپریم کورٹ کے نئے حکم کے تحت الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخاب کے انعقاد کے لیے جاری شدہ شیڈول کالعدم ہو گیا ہے ۔ نئے شیڈول کا اعلان اب الیکشن کمیشن عدالت العالیہ کی جانب سے 43 یونین کونسل کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد از سر نو جاری کرے گا ۔
آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات میں مزید 6 ہفتے کی توسیع کر دی








