بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آزاد کمشیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے، مولانا فضل الرحمٰن

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے اور اسے الگ صوبہ بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔

نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کی جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے اور آل پارٹیز کانفرنس میں آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت کو تبدیل نہ کرنے کی قرارداد منظور کی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا منصوبہ ابھی زیر غور ہے تاہم جے یو آئی (ف) آزاد کشمیر کا موقف تبدیل نہ کرنے پر اصرار کرے گی۔

جے یو آئی (ف) کی دو روزہ جنرل کونسل کا اجلاس پشاور میں شروع ہوا جس میں 900 سے زائد اراکین نے شرکت کی۔

کونسل میں موجودہ سیاسی منظر نامے، آئندہ ضمنی انتخابات اور ملک میں آئندہ عام انتخابات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا خاص طور پر ضم شدہ اضلاع کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ جب امن مذاکرات شروع ہوئے تو خطے میں مسلح افراد سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پائیدار امن پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن ساتھ ہی پارٹی کے رہنما اور کارکنان بھی چاہتے ہیں کہ ان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کو آئین کی بالادستی میں کردار کی سزا دی جا رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ شروع سے ہی وارننگ دیتے رہے ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان غیر ملکی ایجنٹ ہیں اور وہ امریکا اور بھارت سے فنڈز لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے قریبی دوست کہہ رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے حوالے سے ان کا مؤقف غیر ضروری طور پر سخت ہے لیکن حالیہ انکشافات بالخصوص غیر ملکی فنڈنگ کیس نے عمران خان کو بے نقاب کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے کبھی غیر ملکی ایجنٹوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، جے یو آئی (ف) نے تمام حقیقی سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لائیاور یہ پیغام دیا کہ پاکستان سیاسی طور پر مستحکم ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے دعویٰ کیا کہ 1973 سے ملک میں کوئی بھی قانون اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہوتا ہے تو انارکی ناگزیر ہو جاتی ہے اور صوبوں کے اندر کچھ ایسی قوتیں ہیں جو ایسی تباہی چاہتی ہیں تاکہ وہ صورتحال سے فائدہ اٹھا سکیں۔