اسلام آباد(نیوزڈیسک) صوبہ ہزارہ تحریک کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف کی صدارت میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں آئندہ لائہ عمل کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر سجاد اعوان،مرکزی کو ارڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر،سردار گوہر زمان،سابق ممبر قومی اسمبلی بابر نواز،چئیرمین تحصیل بفہ پکھل سردار شاہ خان،ممبر صوبائی اسمبلی سردار محمد ادریس ،چوہدری ماجد مختار،قاری محبوب الرحمن،سلطان العارفین جدون، ہزارہ کے سینیئرصحافیوں،محمد پرویز، تیمور جدون،لقمان شاہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔
چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف،پارلیمانی سیکرٹری داخلہ ڈاکٹر سجاد اعوان، مرکزی کوآرڈی نیٹر پروفیسر سجاد قمر نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتفاق رائے سے طے کیا گیا ہے کہ چونکہ صوبہ ہزارہ کا بل قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جمع ہیں اس لیے ان کو ایجنڈے پر لانے کے لیے ہزارہ کے پارلیمنٹرینز اور ایگزیکٹو کمیٹی وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کریں گے۔
اس کے علاوہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین و اراکین قائمہ کمیٹی قانون و انصاف سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
شرکانے کہاکہ صوبہ ہزارہ کا بل گذشتہ حکومت نے پونے چار سال سے التواء کا شکار رکھااور تاخیری حربے استعمال کیے۔موجودہ حکومت کو بھی پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔اب جب کہ حکومت کافی مسائل سے نکل آئی ہے۔اب جہاں دیگر امور پر کام ہو رہا ہے وہاں پر ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبہ ہزارہ کا مسئلہ بھی فوری طور پر ایوان میں لایا جائے۔موجودہ بل وزیر اعظم میاں شہباز شریف کی اجازت سے ایوان میں پیش ہوا تھااور اس پر احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، مریم اورنگ زیب نے بھی دستخط کیے تھےاس لیے اس بل کو فوری طور پر پاس کروایا جائے۔ہزارہ صوبہ وہاں کے عوام کا جائز مطالبہ ہے اور یہ مطالبہ انتظامی اور آئینی مطالبہ ہے۔اس کے سات لوگوں نے جانیں بھی قربان کیں۔ہم ہزارہ صوبہ کے لیے بڑے بڑے احتجاج بھی کر چکے ہیں اور اب بھی کر سکتے ہیں۔لیکن اب مسئلہ ایوانوں میں ہے اس لیے پارلیمنٹ کا فرض ہے کہ وہ عوام کا جائز مطالبہ پورا کرے۔
صوبہ ہزارہ کا بل سینیٹ ،قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر لانے کیلئے ہزارہ کے پارلیمنٹیرینز کا وزیراعظم سے ملاقات کا فیصلہ








