بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدارتی خطاب میں عمران کے ذکر سے عارضی تنازع پیدا ہوسکتا ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس کے آغاز سے قبل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے صدارتی خطاب عارضی تنازع پیدا کرسکتا ہے چونکہ روایت کے مطابق صدر کو حکومت کی جانب سے فراہم کردہ متن سے تقریر کرنا ہوتی ہے۔

صدر عارف علوی کو خطاب سے پہلے حکومت کو یقین دہانی کرانا ہوگی کہ وہ متن سے انحراف نہیں کریں گے، دوسری جانب ذرائع نے کہا کہ کسی بھی صوبے میں گورنر راج کی توثیق مشترکہ اجلاس سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔

باخبر پارلیمانی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ موجودہ صدر کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور وہ اپنی پارٹی اور اس کے قائد عمران خان کی تشہیر کے موقع کو گنوانا پسند نہیں کریں گے، یہ تجویز حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ اس کا خیال ہے کہ صدر کی جانب سے عمران کا حوالہ غیر متعلقہ ہوگا کیونکہ یہ حکومت اور اس کے اتحادیوں کے لیے مطلوبہ نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اگر صدر عارف علوی نے حکومت کی جانب سے کی جانے والی درخواست کو نظر انداز کرنے کا انتخاب کیا تو حکمران اتحاد کے ارکان کے پاس خاموشی سے واک آؤٹ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اس صورت حال سے ایوان میں کورم کا سوال پیدا ہوسکتا ہے۔ چھوٹی اپوزیشن ہنگامہ آرائی نہیں کرسکے گی اس لیے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کو اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا پڑے گا۔

ذرائع نے یاد دلایا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 56 کے تحت حکومت کی مجبوری ہوگی۔ ذرائع نے یاد کیا کہ قومی اسمبلی کا پارلیمانی سال 13 اگست کو ڈائمنڈ جوبلی اجلاس کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

دریں اثناء وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے دی نیوز کو بتایا کہ حکمران اتحاد آئندہ ہفتے مشترکہ اجلاس کے شیڈول پر بات کرے گا، تجاویز اتحادیوں کو بھجوا دی گئی ہیں، حکومت قومی اسمبلی کا اجلاس 19 ستمبر کو طلب کرنے پر غور کر رہی ہے اور آئین کے مطابق اس سے پہلے مشترکہ اجلاس ہونا ہے، صدارتی خطاب کے لیے مشترکہ اجلاس خاص طور پر بلانا ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ پہلے اجلاس 22 جولائی تک کیلئے ملتوی کیا گیا تھا لیکن ایک روز قبل اجلاس 22 اگست تک ملتوی کر دیا گیا اور اب پھر اسے گزشتہ ہفتے 22 ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تکنیکی طور پر مشترکہ اجلاس جاری ہے لیکن صدر جاری اجلاس میں اپنا خطاب نہیں کرسکتے۔