اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ کو نشانے پر رکھ لیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے نزدیک اداروں کے خلاف بیان اتنا سنگین معاملہ ہے کہ عدالت نے زیر حراست تشدد جیسے سنگین الزام کو نظر انداز کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عدالتی نظام حیران کن تفریق کا شکار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کو پولیس کے حوالے کرنے کا کہہ دیا جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے نزدیک حکومت کا پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف ان ہی الزامات پر مقدمے کا حکم بے وقعت ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نے مزید کہا کہ حکومت کو نوٹس کیے بغیر کابینہ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا، ثابت یہ ہوتا ہے کہ ملک میں قانون جج صاحبان کا نام ہے، ایسا لگتا ہے کہ جج قانون کے ماتحت نہیں قانون ججز کے ماتحت ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ایک بیان میں قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پاکستان میں عدالتی نظام حیران کن تفریق کا شکار ہے آج ہی کے فیصلے لیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے نزدیک اداروں کیخلاف بیان اتنا سنگین معاملہ ہے کہ انھوں نے زیر حراست تشدد یعنی Custodial Torture جیسے سنگین الزام کو نظرانداز کر کے شہباز گل کو پولیس کے حوالے کرنے کا کہا، دوسری طرف
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 26, 2022
فواد چوہدری نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں کہا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کے نزدیک حکومت کا PDM رہنماؤں کیخلاف انھیں الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم اتنا بے وقعت ہے کہ حکومت کو نوٹس کئے بغیر کابینہ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا، ثابت یہ ہوتا ہے کہ ملک میں قانون جج صاحبان کا نام ہے، جج قانون کے ماتحت نہیں قانون ججز کے ماتحت ہے۔
پشاور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ کے نزدیک حکومت کا PDM رہنماؤں کیخلاف انھیں الزامات پر مقدمہ درج کرنے کا حکم اتنا بے وقعت ہے کہ حکومت کو نوٹس کئے بغیر کابینہ کا فیصلہ معطل کر دیا گیا، ثابت یہ ہوتا ہے کہ ملک میں قانون جج صاحبان کا نام ہے، جج قانون کے ماتحت نہیں قانون ججز کے ماتحت ہے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 26, 2022









