اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )2025 تک پاکستان پانی کی شدید قلت والے ممالک میں شامل ہو گا ، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے تیار ی کرناہوگی،سیکرٹری ،سندھ اوربلوچستان کابراحال ہے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی نزہت پٹھان کی زیر صدارت ہوا، وفاقی سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی آصف حیدر شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات کو خراب کرنے میں گرین ہائوس اور دوسری گیسز شامل ہیں، کوئلہ جلانے سمیت گاڑیوں کے دھویں سمیت کئی گیسز ماحولیات پر برا اثر ڈال رہی ہیں ، بڑھتی ہوئی آبادی بھی ماحول پر اثر انداز ہو رہی ہے، 1970 میں گرین ہائوس گیسز کا اخراج 28 بلین ٹن تھا اسوقت 60 بلین ٹن سالانہ تک پہنچ چکاہے، گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ کم ہے، گلیشیئر برسٹ کے 18 واقعات اس سال ہو چکے ہیں،2025 تک پاکستان پانی کی شدید قلت والے ممالک میں شامل ہو گا۔ وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان کا برا حال ہے اس سسٹم کو کل کمزور ہونا تھا وہ نہیں ہوا اب یہ سسٹم سندھ پر آ چکا ہے اب تک 1100 ملی میٹر بارش بھی ریکارڈ ہو چکی ہے،، 33 ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں ، چیئرپرسن کمیٹی نےکہا کہ ادارہ این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کیا کر رہا ہے؟، شیری رحمٰن نے کہا انہوں نے پیشگوئی کی تھی انکے محدود وسائل ہیں۔ این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے 945 افراد جاں بحق،1356 زخمی ہوئے ہیں ،سب سے زیادہ ہلاکتیں سندھ میں 306 ہوئی ہیں، بلوچستان میں 234 ،خیبر پختونخوا میں 193 اور پنجاب میں 165 ، گلگت بلتستان میں 9 اور وفاقی دارلحکومت میں ایک شخص جاں بحق ہوا ہے، بلوچستان کے 31 ، سندھ کے 23 ، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے 9 اور پنجاب کے 3 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں، مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا مارگلہ ہلز اور خان پور ڈیم میں کرشنگ پلانٹ لگائے گئے ہیں، انسپکٹر جنرل فاریسٹ غلام قادر شاہ نے بتایا کہ 11 رجسٹرڈ ہیں باقی غیر قانونی ہیں ،چیئرپرسن نے خیبرپختونخواکے چیف سیکرٹری ،وزارت آبی وسائل کےحکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
2025 تک پاکستان پانی کی شدید قلت والے ممالک میں شامل ہوگا








