لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے فیروز پور روڈ پر ایک ہزار بیڈ کے جنرل ہسپتال کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
تفصیلات کے مطابق ہسپتال 123 کنال اراضی پر بنے گا، جہاں پہلے مرحلے میں 250 بیڈز کی ایمرجنسی بلاک اور ٹراما سینٹر بنایا جائے گا، ہسپتال کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 7ارب 55کروڑ روپے لگایاگیا ہے ، پہلے مرحلے میں بیسمنٹ،گراؤنڈ فلور اور6فلور تعمیر کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ انشاء اللہ اگست2023ء تک یہ ہسپتال فنکشنل ہوگا، اس بڑے ہسپتال میں کارڈیک اور بلڈ ڈیزیز کے ہسپتال بھی بنائے جائیں گے ، فیروز پور روڈ پر یہ اراضی عرصہ دراز سے خالی پڑی تھی، حکومت نے شہر کے وسط میں اس اراضی کو فلاح عامہ کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق ہسپتال بننے سے لاہور کے شہریوں کو علاج معالجے کی جدید ترین سہولتیں میسر آئیں گی، اس سڑک پر ٹریفک کے لوڈ کی مینجمنٹ کیلئے ایل ڈی اے کو ہدایات جاری کر دی ہیں، جناح ہسپتال اور سروسز ہسپتال میں بھی نئی ایمرجنسیز بنیں گی، ان تمام منصوبوں کیلئے 17 ارب روپے مختص کر دیئے ہیں، ان ایمرجنسیز کو انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب مکمل کرے گی، مارچ کے آخر تک پنجاب کے ہر شہری کے پاس ہیلتھ کارڈ ہوگا، شہری ہیلتھ کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ روپے سالانہ کا مفت علاج کرا سکتے ہیں۔
سردار عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب میں 23 ہسپتال بنائے جا رہے ہیں، 158 ہیلتھ فسلیٹیز کو اپ گریڈ کر دیا ہے، 150 کے قریب مزید ہیلتھ فسلیٹیز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار سوشل سکیورٹی کے 6 نئے ہسپتال بن رہے ہیں، سوشل سکیورٹی کے قانون میں تبدیلی لا رہے ہیں، اب عام شہری بھی سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کی ایمرجنسیز میں علاج معالجے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس موقع پر وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہمیشہ پورا سپورٹ کیا ، لاہور میں ایمرجنسیز کے بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جناح ہسپتال اور سروسز ہسپتال میں نئی ایمرجنسیز پر جلد کام شروع ہوگا، ایمرجنسیز میں مجموعی طور پر800 بیڈز کا اضافہ ہوگا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور، چیف سیکرٹری، سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن، کمشنر لاہور ڈویژن، سیکرٹری اطلاعات، ڈی جی ایل ڈی اے، سی ای اوانفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔








