کابل(ممتازنیوز ) افغانستان میں طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع نے الزام عائد کیا ہے کہ دارالحکومت کابل میں ہونے والے ڈرون حملے کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی گئی۔
اتوارکو کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملا یعقوب نے کہاکہ ہماری معلومات کے مطابق پاکستان کے ذریعے ڈرون افغانستان میں داخل ہوتے ہیں، پاکستان کی فضائی حدود استعمال ہو رہی ہے، یہ افغان خودمختاری پر حملہ ہے ،ہم پاکستان
سے مطالبہ کرتے ہیں اپنی فضائی حدود افغانستان کے خلاف نہ استعمال ہونے دیں۔
ملایعقوب نے کہاکہ امریکہ نے جانے سے پہلے ہمارے ریڈار سسٹم کو خراب کیا تھا تاکہ کوئی ڈرون آئے ہمیں پتا نا چل سکے۔ مگر ہمیں پتاہے کہ ڈرون کے لیے پاکستانی ائیرسپیس کا استعمال ہوا تھا. پاکستان امریکہ کو ائیرسپیس دینےسے باز رہے اب ہم برداشت نہیں کریں گے
اپنی حکومت کی ایک سالہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے ملا یعقوب نے کہا کہ 60 سے زائد خراب فوجی ہیلی کاپٹروں کی مرمت کی گئی اور پرواز کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے نکلنے کے دوران امریکی افواج نے قصداً ان ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچایاتھا۔
واضح رہے کہ پاکستان ڈرون حملے کے لئے اپنی سرزمین استعمال ہونے کی پہلے ہی سختی سے تردید کر چکا ہے۔
پانچ اگست کو افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ ایمن الظواہری پر امریکی ڈرون حملے میں پاکستان کی حدود استعمال ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس تمام معاملے پر دفتر خارجہ واضح طور پر کہہ چکا ہے اور وزارت داخلہ نے بھی اس پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔‘
دو اگست کو صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں بتایا تھا کہ ’امریکی انٹیلی جنس حکام نے کابل کے ایک گھر میں ایمن الظواہری کا سراغ لگایا جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ چھپے ہوئے تھے۔









