حیدرآباد (نیوز ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے پہلی سے دسویں جماعت تک کی تدریسی کتابوں کی طباعت میں 100کروڑ روپے کی کرپشن کرنے کی کوشش کے خلاف دائر درخواست پر سیکریٹری تعلیم سندھ‘ چیئرمین‘ سیکریٹری‘ پروکیورمنٹ آفیسر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشورو کو نوٹس جاری کردیئے۔ عدالت عالیہ نے ڈسٹرکٹ جج کراچی‘ ساؤتھ اور فرسٹ سینئر سول جج جامشوروکو فریقین کو نوٹس تعمیل کرانے کی ہدایت کردی۔ بورڈ انتظامیہ نے عدالت میں آئینی درخواست دائر ہونے بعد سرکاری تعطیل کے روز 8 ارب روپے زائد مالیت کے ٹینڈرز کھول دیئے‘ تدریسی ٹینڈرز کو انتہائی ٹیکنکل کرکے سالانہ ایک ارب سے زائد کی کرپشن میں بورڈ و محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور چند انتہائی اثرو رسوخ رکھنے والی مافیا ملوث ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس عدنان الکریم پر مشتمل بینچ نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشورو کی جانب سے پہلی سے دسویں جماعت کی فری ڈسٹریبوٹیشن کی کتابوں کے طباعت کےلئے جاری کئے گئے ٹینڈرز میں 100کروڑ روپے کی کرپشن کے منصوبے کے خلاف دائرسابق ڈپٹی سیکریٹری سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشوروغلام حسین ساند کی درخواست پر سیکریٹری تعلیم اسکول و کنٹرولنگ اتھارٹی سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشورو‘ چیئرمین‘ سیکریٹری اور پروکیورمنٹ آفیسر بورڈ کو یکم ستمبر کے نوٹس جاری کردئےے۔ عدالت عالیہ نے ڈسٹرکٹ جج کراچی‘ ساؤتھ اور فرسٹ سینئر سول جج جامشورو کو فریقین کو نوٹس تعمیل کرانے کا حکم دیا ہے۔ درخواست گزار غلام حسین ساند نے آئینی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سیکریٹری بورڈ نے سال 2023-24ءکی پہلی سے دسویں جماعت کی کتابوں کی طباعت کےلئے ٹینڈرز نوٹس جاری کئے۔ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ سالانہ بغیرکسی نفع نقصان کے یہ کتابیں طالبعلوں کےلئے چھپواتا ہے‘ بورڈ قوانین اور طے شدہ ضابطے کے مطابق پبلشر ساڑھے 13فیصد رائلٹی بورڈکا ادا کرتا ہے‘ 14فیصد پبلشرمنافع اورساڑھے17فیصدرعایت ہول سیلر کو دی جاتی ہے مگر ٹینڈرز فارم جسے سیکریٹری بورڈاورپروکیورمنٹ آفیسر نے جاری کیاہے اس میں ان اہم ضابطوں کو شامل نہیں کیا ہے‘ بورڈ مارکیٹ کے مطابق کتابوں کے ریٹ مقرر کرتا ہے اور ساڑھے 13فیصد بورڈ کو رائلٹی پبلشر ادا کرتا ہے اور ساڑھے 17فیصد رعایت ہول سیلر اور خریدار کو دی جاتی ہے۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیاکہ مذکورہ ٹینڈر میں سیپرا قوانین کی شق 44 کی بھی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے اورفری تقسیم کی جانے والی ان کتابوں کے پبلشر / پرنٹرز سے ساڑھے 13فیصد رائلٹی‘ خریدار کو ساڑھے 17فیصد رعایت اور ساڑھے 13 فیصد گورنمنٹ فنڈز نہیں لیا جائے گا جس سے بورڈ/قومی خزانے کا سو کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ مذکورہ ٹینڈرز کھولنے سے روکنے کےلئے فوری حکم امتناعہ دیاجائے اور سیپرا و بورڈ قوانین کے مطابق ٹینڈرز جاری کرکے قومی خزانے کی بھاری رقم بچائی جائے مگر دوسری طرف بورڈ انتظامیہ نے عدالت عالیہ میں درخواست دائر ہونے کے بعد 26اگست کو مذکورہ ٹینڈز کو اوپن کیا ہے حالاناکہ سیلابی صورتحال کے باعث سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں اور بورڈز میں 26اور 27اگست کو تعطیل کا حکم دیا تھا مگر انتہائی عجلت میں تدریسی کتابوں کے ٹینڈرز کو اوپن کرکے معاملے کو مزید مشکوک کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ پر کئی عشروں سے فری تقسیم کی جانے والی کتابوں کی طباعت میں ایک ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن کی جاتی ہے جس میں چند انتہائی بااثر افراد شامل ہیں اور آپس میں بندر بانٹ کرنے کےلئے ٹینڈرز فارم بھی یہ افراد تیار کرتے ہیں۔
درسی کتب کی طباعت، 100کروڑ کی کرپشن،سندھ ہائیکورٹ کا نوٹس جاری








