بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدرعلوی کی ملک کو درپیش اہم سوالات پر اسٹیک ہولڈرز میں ثالثی کی پیشکش

 اسلام آباد(ممتازنیوز) صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کے عظیم تر مفاد میں عدلیہ اور فوج سمیت تمام اداروں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہ کرنے پرزوردیتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ اگرتمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہو ں تووہ رضاکارانہ طور پر ملک کو درپیش اہم سوالات پران کے درمیان ثالثی کرسکتے ہیں جبکہ انہوں نےوفاقی وصوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں سے سیاست روک کر سیلاب زدگان کی مدد پر توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز پاکستانی عوام، کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی تنظیموں کو متحرک کرنے کے لیے ملک گیر مہم شروع کریں ۔ایوان صدر میں سینئر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ پاکستان میں سیلاب سے تباہی گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوئی حالانکہ پاکستان عالمی کاربن کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے ، ترقی یافتہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں میں سب سے بڑا حصہ دار ہونے کے ناطے متناسب طور پر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز اور تعمیر نو میں کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ سیاست کو روک کر سیلاب زدگان کی مدد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ،لہذا تمام حکومتیں اور سیاسی جماعتیں سیاست روک کر سیلاب زدگان کی مدد پر توجہ دیں ، تمام اسٹیک ہولڈرز پاکستانی عوام، کاروباری اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی تنظیموں کو متحرک کرنے کے لیے ملک گیر مہم شروع کریں ،سول اور فوجی انتظامیہ کو سیلاب زدگان کو بچانے ، انکی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر ِ نو کے لیے مدد فراہم کی جائے ۔ صدر مملکت نے کہاکہ عدلیہ اور فوج سمیت تمام اداروں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال نہ کیا جائے ، ایسے تبصرے عظیم تر قومی مفاد میں نہیں ، اگر تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہو جائیں تو رضاکارانہ طور پر ملک کو درپیش اہم سوالات پر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ثالثی کرسکتا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی تبصرہ، بیانیہ یا تجزیہ جس سے اداروں کے اندر یا پاکستان کے اداروں اور عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کا اندیشہ ہو، ہمارے قومی مفاد میں ہرگز نہیں ہو سکتا،تمام سیاسی جماعتیں ، صائب الرائے افراد، اور میڈیا پرسنز اداروں پر گفتگو یا تبصرہ کرتے وقت آئین کے آرٹیکل 19 اور متعلقہ قوانین اور ضوابط کی حدود میں رہیں۔انہوں نےکہاکہ تقریباً 90 فیصد سوشل میڈیا عوام کو علم، معلومات، تعلیم اور تفریح فراہم کر رہا ہے جو کہ ایک صحت مند رجحان ہے، کچھ افراد یا گروہ جو بعض سیاسی جماعتوں یا رہنما کے پیروکار ہیں سیاسی جماعت یا رہنما کے علم یا رضامندی کے بغیر سوشل میڈیا پر ٹرول کرتے ہیں ، بعض افراد یا اداروں کے خلاف توہین اور تضحیک آمیز رجحانات بغیر کسی ثبوت کےسیاسی جماعت یا شخصیت سے منسوب کیے جاتے ہیں ،اس طرح کے غیر تصدیق شدہ الزامات بھی موجودہ سیاسی تقسیم میں اضافہ کرتے ہیں جس سے گریز کرنا چاہیے۔صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ سے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے ،پاکستان بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کو فروغ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہےاور وہ تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے باہمی احترام، عدم مداخلت، عدم جارحیت اور تنازعات کے پرامن حل پر پختہ یقین رکھتا ہے ۔عارف علوی نے کہاکہ پاکستان دوسرے ممالک سے بھی یہی رویہ اپنانے کا مطالبہ کرتا ہےاور منفرد سٹریٹجک اور جیو اکنامک محل وقوع کی وجہ سے اسے علاقائی اور عالمی طاقتوں نے ہمیشہ اہم سمجھا ہے۔انہوں نے کہاکہ قومی مفاد ، ملک کی خودمختاری اور پاکستانی عوام کے وقار کو مقدم رکھتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں ۔