بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کوٹلی کا مشہور مقدمہ قتل، وزیر ہائیر ایجوکیشن آزاد کشمیر ملک ظفر کی ضمانت کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

مظفرآباد( محمد شبیر اعوان)کوٹلی کا مشہور مقدمہ قتل، سپریم کورٹ نے وزیر ہائیر ایجوکیشن آزاد کشمیر ملک ظفر کی ضمانت کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا، ملک ظفر اس وقت کوٹلی جیل میں ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آذاد جموں و کشمیر جسٹس خواجہ محمد نسیم اور جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بنچ نے ظفر اقبال ملک ضمانت کیس میں فریقین کے وکلا کے دلائل/ بحث کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا ۔
اپیل عنوانی ملک ظفر بنام راشد حسین شاہ وغیرہ میں فریقین کے وکلا کے دلائل کی سماعت مکمل کی۔ ظفر اقبال ملک کی جانب سے چوہدری شوکت عزیز ،خواجہ عطاءاللہ چک، چوہدری محبوب الٰہی ،راجہ انعام اللہ خان، راجہ محمد شفاعت کیانی ایڈووکیٹس جبکہ راشد حسین شاہ وغیرہ کی جانب سے راجہ سجاد احمد خان، بابر علی خان، مجاہد حسین نقوی اور چوہدری امجد علی ایڈووکیٹس پیش ہوئے، حکومت کی جانب سے مقدمہ کی پیروی ایڈووکیٹ جنرل خواجہ مقبول وار نے کی ۔کیس کی سماعت کیلئے قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس خواجہ محمد نسیم، ججز جسٹس رضا علی خان اور جسٹس محمد یونس طاہر پر مشتمل بینچ قائم کیا گیا تھا اپلانٹ نے عدالت میں درخواست پیشِ کی کہ جسٹس محمد یونس طاہر اس کیس میں وکیل رہ چکے ہیں اس لیے دو رکنی بینچ نے ہی سماعت کی ،سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔
واضح رہے کہ عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر کے جج جسٹس اعجاز احمد خان اور جسٹس چوہدری خالد رشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمات عنوانی ظفر اقبال بنام سرکار ،محفوظ فاطمہ بنام ظفر ملک میں ضلع کوٹلی کے معروف مقدمہ امیر آصف شاہ قتل کیس میں وزیر ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ملک ظفر اقبال کو قتل ثابت ہونے پر 14 سال اور ممنوعہ اسلحہ رکھنے کی پاداش میں 3 سال قید ،دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنادی ہے۔پولیس نے ظفر اقبال کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا تھا ۔واقعات کے مطابق 19سال قبل ضلع کوٹلی میں امیر آصف شاہ نامی نوجوان قتل ہوگیا تھا ،وزیر ہائیر ایجوکیشن ظفر اقبال ملک سمیت تین افراد کےخلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا۔ڈسٹرکٹ وسیشن کورٹ کوٹلی کے جج اور ضلع قاضی نے متضاد فیصلہ دے رکھا تھا۔ڈسٹرکٹ جج نے ظفر اقبال ملک کو بری جبکہ ضلع قاضی نے سزا سنا رکھی تھی۔سیشن کورٹ کے فیصلہ کےخلاف عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر میں اپیل دائر کی گئی۔عدالت العالیہ نے فریقین کو سماعت کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔گزشتہ روز 3اگست کو عدالت العالیہ آزادجموں وکشمیر نے ڈسٹرکٹ وسیشن کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے وزیر ہائیر ایجوکیشن ظفر اقبال ملک کو قتل ثابت ہونے پر 14 سال اور ممنوعہ اسلحہ رکھنے کی پاداش میں 3 سال سزا سمیت دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سناتے ہوئے گرفتاری کا حکم دیا دے رکھا ہے ۔موقع پر موجود پولیس نے کمرہ عدالت سے ظفر اقبال ملک کو گرفتار کرلیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی ۔