بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شہبازشریف اورحمزہ کیخلاف رمضان شوگرملزریفرنس نیب کو واپس

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت نے وزیراعظم شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز ریفرنس نیب کو واپس کر دیا۔

احتساب عدالت نے نیب آرڈینس 2022 کے تحت فیصلہ دیا جس میں عدالت نے کہا کہ رمضان شوگرملز کیس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

عدالت نے کہا کہ 50 کروڑ سے کم کرپشن کا کیس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

نیب نے رمضان شوگر ملزریفرنس میں 35 کروڑ روپے کی لاگت سے تحصیل بھوانہ میں رمضان شوگر ملز کیلئے گندہ نالہ تعمیرکرنے کا الزام لگایا تھا۔

ریفرنس میں 35 کروڑ روپے کی رقم قومی خزانے سے استعمال کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا تھا۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواست پر دلائل دیے جس میں مؤقف اپنایا کہ  نیب ترمیمی آرڈینس 2022 کے تحت کیس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ 50 کروڑ سے کم کرپشن کا الزام ہے تو کیس احتساب عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہو جاتا ہے۔

حمزہ شہباز نے عدالت میں پیش ہو کر حاضری مکمل کرائی جبکہ وزیراعظم شہبازشریف کو حاضری سے استثنیٰ ملا ہوا ہے۔

احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کو حاضری مکمل کرنے کے بعد جانے کی اجازت دی۔

دوسری جانب احتساب عدالت لاہورمیں آشیانہ ریفرنس اور منی لانڈرنگ ریفرنس کی بھی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے شہباز شریف کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی۔

عدالت نے آشیانہ ریفرنس میں شہباز شریف کی بریت کی درخواست پر دلائل  طلب کرلیے۔

عدالت نے آشیانہ ریفرنس کی سماعت 23 ستمبرتک اورمنی لانڈرنگ کیس کی سماعت 20 ستمبرتک ملتوی کردی۔

شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کا نمائندہ تبدیل کرنے کی درخواست پر نیب سے جواب طلب کیا گیا۔

وکیل درخواست گزارنے کہا کہ نصرت شہباز کا نمائندہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ہوچکا ہے۔ عدالت محمد انوار ایڈووکیٹ کو نمائندہ مقررکرنے کا حکم دے۔