اسلام آباد ( ممتاز نیوز ) بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج جسٹس رانا شمیم توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران کہاکہ محض ججز پرتنقید کرنے پر ہم توہین عدالت کا قانون نہیں لگاتے ہیں ، نہ ہی لگائیں گے،ریٹائرڈ جج کا انگریز عدالت کے سامنے بیان دینا کم نہیں ہے اگر بیان حلفی سچا ہے تو ثابت کرنا رانا شمیم کا کام ہے اور اگر بیان حلفی میں کہی گئی بات غلط ہے تو یہ اور بھی سنگین جرم ہے ، معافی تب ملے گی جب وہ سچ بتائیں گے۔بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میںگلگت بلتستان کے سابق چیف جج جسٹس رانا شمیم توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں رانا شمیم کے وکیل لطیف خان آفریدی نے کہاکہ سارے ملک کے توہین عدالت کے کیس ہائی کورٹ میں نہ لائیں ، اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے توہین عدالت کے معاملے میں ایک فیصلہ دے رکھا ہے ، محض ججز پرتنقید کرنے پر ہم توہین عدالت کا قانون نہیں لگاتے ہیں ، نہ ہی لگائیں گے، جہاں زیر التواءکیس پر اثر انداز ہونے کی بات ہو وہاں معاملے الگ ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک ریٹائرڈ جج کا انگریز عدالت کے سامنے بیان دینا کم نہیں ہے اگر بیان حلفی سچا ہے تو ثابت کرنا رانا شمیم کا کام ہے اور اگر بیان حلفی میں کہی گئی بات غلط ہے تو یہ اور بھی سنگین جرم ہے ۔ اطہر من اللہ نے مزید ریمارکس دیے کی رانا شمیم اس کیس میں غیر مشروط معافی چاہتے ہیں ، معافی انھیں تب ہی ملے گی جب وہ بیان میں کہی گی بات کو غلط ثابت کریں یا کہیں کہ انھیں اس معاملے میں غلط فہمی ہوئی تھی ،ان سب باتوں کو پورا کرنے کے بعد وہ معافی مانگیں تو تب ہی ہم انکی معافی کی استدعا کو زیر غور لائیں گے۔ سماعت کے اختتام پر عدالت نے رانا شمیم کو اپنے گواہوں کی فہرست جمع کرانے کے لیے پیر 12ستمبر تک کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔ یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج جسٹس رانا شمیم الزام عائد کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو 2018 میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز پر دباوڈالا تھا،اور اس حوالے سے انھوں برطانیہ کی عدالت میں اپنا بیان حلفی بھی جمع کرایا تھا ۔ اس حوالے سے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اس دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔ جبکہ کیس میں سابق چیف جج کے علاوہ نجی ٹی وی چینل جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور صحافی انصار عباسی شامل ہیں۔( اسد)
رانا شمیم توہین عدالت کیس ، محض ججز پرتنقید کرنے پر ہم توہین عدالت کا قانون نہیں لگاتے ہیں نہ ہی لگائیں گے،جسٹس اطہرمن اللہ








