اسلام آباد (ممتاز نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے بطور وزیراعظم انہیں اور ان کی اہلیہ کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات رسیدوں سمیت الیکشن کمیشن میں پیش کردیں، توشہ خانہ کیس میں جمع کرائے گئے جواب میں عمران خان نے بتایاکہ انہیں توشہ خانہ کے 58 تحائف میں نے اوراہلیہ نے وصول کیے،30ہزار سے زائد مالیت کے کل 14 تحائف سابق وزیراعظم اوران کی اہلیہ کو ملے،تمام تحائف ٹیکس ریٹرن اور اثاثوں کی تفصیلات میں موجود ہیں،توشہ خانہ تحائف کے 4 فروخت کیے گئے،3کروڑ80لاکھ 76ہزارروپے بینک اکاؤنٹ سے ذریعہ جمع کرا ئی گئیں۔
بدھ کو الیکشن کمیشن میں جواب بیرسٹر گوہر خان اور بیرسٹر علی ظفر کی طرف سے جمع کروایا گیا،عمران خان کا جواب 60 صفحات پر مشتمل ہے۔عمران خان نے اپنے جواب میں کہا کہ میرے خلاف توشہ خانہ ریفرنس بے بنیا د اور بلاجواز ہے،درخواست گزار اور سپیکر قومی اسمبلی کا ریفرنس بد نیتی اور سیاسی مقاصد کے لیے ہے، ریفرنس اختیارات کا ناجائز استعمال اور آئینی اختیار کی توہین ہے جبکہ اس معاملے میں ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہی غیر قانونی ہے۔ میرے خلاف توشہ خانہ ریفرنس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہی یہا ں پر قابل سماعت ہواسکتاہے۔
سابق وزیر اعظم نے اپنے جواب میں کہا کہ میں توشہ خانہ تحائف کو کبھی نہیں چھپایا اس الزام کو مسترد کر تا ہوں اور الیکشن ایکٹ میں متعلقہ سیکشن 137کے تحت نااہلی یا جرمانے کی سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے الیکشن کمیشن آرٹیکل 63ٹو کے تحت بھی ریفرنس کا تعین نہیں کر سکتاہے۔
عمران خان نے کہا کہ اثاثوں کی تفصیلات غلط ہونے پر الیکشن کمیشن 3ماہ کے اند ر کاروائی کر سکتاہے لیکن اب اس پر بہت وقت گزار چکا ہے اور کاروائی نہیں ہوسکتی ہے، سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن رکن اسمبلی کو 62ون ایف کے ناہل نہیں کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے۔ سپیکر اسمبلی بھی اس طرح کا ریفرنس نہیں بھیج سکتاہے۔
انہوں نے کہاکہ کابینہ ڈویژن کے میمورنڈم کے مطابق تمام تحائف توشہ خانے میں جمع ہونگے اور 30ہزارروپے مالیت تک کا تحفہ وصول کرنے والابغیر ادائیگی کے تحفہ اپنے پا س رکھ سکتاہے اور30ہزار روپے سے زائد کی مالیت کے تحفے کو 50ادائیگی کے بعد لیا جا سکتا ہے۔
عمران خان نے جواب میں بتایا کہ یکم اگست2018سے 31دسمبر 20121تک تمام اہم شخصیات کو 329تحائف ملے، مجھے اور میری اہلیہ کو 58تحائف ملے تھے،تحائف میں گلدان، ٹیبل کورز،چھوٹے قالین،پرفیومز،گھڑیاں، قلم، کفلنک،انگوٹھی، کڑے اور گلے کے لاکٹ شامل تھے۔ ان میں سے 14تحائف کے قیمتیں 30ہزارروپے سے زائد تھیں۔2018سے 2019کے دوران 31تحائف وصول ہوئے جن میں سے 4اپنے پاس رکھے، ان تحائف کی ادا کی گئی مالیت کروڑ 15لاکھ 64ہزار روپے ہے۔ 2019سے 2022تک 9تحائف ملے جنکی مالیت 7لاکھ 19ہزار 700روپے ہے، 2020سے 2021تک 12تحائف ملے جنکی ادا کی گئی رقم ایک کروڑ 16لاکھ 85ہزار 250روپے ہے، 2021سے 2022تک 6تحائف رکھے اور 31لاکھ 7500روپے ادا کیے۔ میری جانب سے رکھے گئے تحائف کی کل ادا کی گئی رقم 3کروڑ80لاکھ 76ہزارروپے ہے جو بینک اکاؤنٹ سے ذریعہ جمع کرا ئی گئیں اور ان تفصیلا ت کو اپنے سالانہ گوشواروں میں بھی جمع کراوئے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ چھوٹے تحائف گوشواروں میں جمع نہیں کرا ئے جاتے ہیں جب کہ میرے خلاف درخواست دینے والے سمیت کسی رکن اسمبلی نے اپنے اثاثوں کو ظاہر نہیں کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری جانب سے فروخت کیے گئے تحائف کی 5کروڑ80لاکھ کی رقم انکم ٹیکس میں ظاہر کیا۔
بطوروزیراعظم58تحائف ملے، عمران خان نے رسیدوں سمیت تفصیلات الیکشن کمیشن میں پیش کردیں







