کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) یورپ میں توانائی کے بحران نے سب ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ان میں وہ سائنسدان بھی شامل ہیں جو سوئٹزرلینڈ میں زمین کی گہرائی میں ’’ہیڈرون کولائیڈر‘‘ پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔
یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق (CERN) نے بھی توانائی کا بحران محسوس کرتے ہوئے اپنے پارٹیکل ایکسیلریٹر کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے ایکسیلریٹر بند کرنے کا فیصلہ اسلئے کیا ہے کہ مشین کو چلتے رہنے کیلئے گیس کی بھاری مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔
تاہم، سائنسدان مکمل طور پر ہیڈرون کولائیڈر کو بند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اسلئے اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ عارضی طور پر مشین کو ’’آئیڈل موڈ‘‘ پر رکھا جائے۔ وال اسٹریٹ جرنل سے بات چیت کترے ہوئے سرن کے انرجی چیف سرج کلاڈیٹ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام رضاکارانہ طور پر کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سرن کی جانب سے یہ اعلان ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب روسی کمپنی گیزپروم نے نورڈ اسٹریم ون سے یورپ کی گیس مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔









