اسلام آباد(ممتازنیوز) اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہا ہے کہ عمران خان نے عدالت سے غیرمشروط معافی نہیں مانگی اور معافی کے بجائے اپنے بیان کا دفاع کرنےکی کوشش کی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں تمام لوگوں نے اچھےدلائل دیئے عمران خان نےاپنےجواب میں غیرمشروط معافی نہیں مانگی انہوں نےجواب میں بیانات پراظہارافسوس بھی نہیں کیا عمران خان نےمعافی کےبجائےاپنےبیان کادفاع کرنےکی کوشش کیا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کا جواب غیرتسلی بخش قرار دیا اور اب باقاعدہ ٹرائل شروع کرنےکا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے8سال پہلےبھی سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کرایاتھا الیکشن کمیشن کے سامنےتوانہوں نے3مرتبہ معافی مانگی، بیانات اب بھی آ رہے ہیں تو فیصلہ عدالت کی صوابدید پر ہے۔
ماہر قانون ابوذرسلمان نیازی نے کہا کہ فردجرم کامطلب یہ نہیں کہ بس جرم ثابت ہو گیا ہے فردجرم کامطلب یہ ہےکہ اس دن دےملزم کاٹرائل شروع ہوگا ملزم کو بھی عدالت میں دفاع کاموقع دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان عدالت میں غیرمشروط معافی مانگ لیتےتوکیس ختم ہو جاتا عدالت کی جانب سےعمران خان کوغیرمشروط معافی کاموقع دیاگیا عمران خان کاوکیل اگرمیں ہوتاتوغیرمشروط معافی مانگنےکامشورہ دیتا۔
عمران خان نے معافی کے بجائے اپنے بیان کے دفاع کی کوشش کی‘ اٹارنی جنرل








