ملتان(ممتاز نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ملک پر 40 سال حکومت کی۔اگر یہ لوگ ملک کے ساتھ مخلص ہوتے تو پانی ذخیرہ کے لئے ڈیم بناتے۔اگر 40 سالوں میں پانی ذخیرہ کرنے کا بندوست کیا ہوتا آج لوگ نہ اجڑتے۔ پورے ملک میں سیلاب کی سنگین صورتحال ہے۔ سیلاب زدگان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔جنوبی پنجاب کے کچھ اضلاع بھی سیلابی پانی سے متاثر ہوئے۔عمران خان نے ساڑھے تین سالوں میں 10 ڈیموں کا اعلان کیا۔جب ڈیم مکمل ہوں گے تو لوگوں کو ان ڈیمز سے فائدہ پہنچے گا۔ڈیموں کا پانی کھیتو ں کو سیراب کرے گا بربادی نہیں ہوگی۔امپورٹڈ حکمرانوں نے عوام سے روٹی کا نوالہ چھینا۔امپورٹڈ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے زرعی مداخل اتنے مہنگے ہوئے ہیں کہ پاکستان کی فوڈ سکیورٹی داؤ پر لگ گئی ہے۔ پاکستان ان کو معاشی دلدل سے نکالنا ہے تو عمران خان کو دو تہائی اکثریت سے وزیراعظم بنانا ہوگا۔ پیپلز پارٹی اوریوسف رضا گیلانی کرپشن کی نشانی بن گئے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ملتان میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا عدالت میں 6 گھنٹے کی حاضری کے باوجود عمران خان ملتان پہنچے ہیں۔ پاکستان کے عوام عمران خان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ عمران خان عوامی رابطہ مہم کے سلسلہ میں ملک کے مختلف شہروں میں جا رہے ہیں۔ 14 اضلاع میں 20 نشستوں میں عوام نے عمران خان کے نظریے پر مہر لگائی۔پنجاب کے عوام کا اعتماد عمران خان پر ہے۔پنجاب کے لوگوں نے ثابت کیا کہ وہ سیاسی شعور رکھنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمارے ساڑھے 3سالہ دور حکومت میں 2سال کرونا کی نظر ہوئے۔ ہماری کامیاب حکمت عملی سے عوام کی جانیں بھی بچیں۔ بے روزگاری کا بھی مقابلہ کیااور صنعتوں کا بھی پہیہ چلتا رہا۔پی ڈی ایم حکومت نے مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ امپورٹڈ حکمرانوں کے 4ماہ میں صنعتیں 5فیصد سے بھی کم چل رہی ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکمرانوں پر عدم اعتماد کی وجہ سے سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ جس کی وجہ سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہواہے۔ لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں ریکارڈ اضافہ کیا ہے۔ کاشتکار بجلی کے بل بھرنے کی سکت نہیں رکھتے۔پاور لومز انڈسٹری مہنگی بجلی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہم نے ڈیزل کی قیمت کم کی تھی۔موجودہ حکومت نے ڈیزل بھی مہنگا کر دیا ہے۔ قوم نے نوالہ چھیننے والوں کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کرنا ہے۔ عوام بلے پر مہر لگائیں گے۔انہوں نے کہا پا کستان سمیت دنیا بھر کی عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ سیلاب آنے پر شہباز شریف نے اکاؤنٹ میں پیسے بھیجنے کا کہا۔کسی نے شہباز شریف کو پیسے جمع نہیں کروائے۔زرداری کو علم تھا کہ انہیں پیسے کوئی نہیں دے گا، اس لئے انہوں نے اپیل بھی نہیں کی۔ عمران خان نے اڑھائی گھنٹے میں ساڑھے پانچ ارب روپے اکٹھے کئے۔انہوں نے کہا ہم نے 13 سال دہشت گردی کی جنگ لڑی مگر کوئی بھوکا نہیں سویا۔کسانوں نے مشکل حالات میں بھی اناج اگا کر قوم کو کھلایا۔آج موجودہ حکومت نے کاشتکاروں کو اناج اگانے کے قابل نہیں چھوڑا۔انہوں نے کہا ملک اس وقت شدید مشکل میں ہے۔ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے قوم عمران خان کو ووٹ دے۔مہنگائی میں پسے پاکستان کو عمران خان ہی بچا سکتا ہے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے این اے 157 سے پی ٹی آئی امیدوار مہر بانو قریشی نے کہا کہ میں آئی تو این اے 157 کے انتخاب بارے بات کرنے۔ ؎لیکن ٹھپے لگنے سے پہلے ہی مخالفین بھاگ گئے ہیں۔تیر ختم ہو گیا۔ جب بھی انتخاب ہونگے بلے کا انتخاب ہوگا۔ اور بلے پر ٹھپہ لگے گا۔جب بھی الیکشن ہوا، جیت بلے کی ہو گی۔انہوں نے کہاالیکشن نہیں ہو گا یہ دو نظریوں کی جنگ ہو گی۔مہنگائی ختم کرنے کے دعوؤں کے ساتھ 13 جماعتیں اقتدار میں آئی تھیں۔ان 13جماعتو ں کے دعووں کی قلعی کھل گئی۔ عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کس کا ساتھ دینا ہے۔عمران خان واحد قیادت ہیں جو پاکستان کو بچائیں گے۔انہوں نے کہا پاکستان کی عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ کرپشن سے پاک پاکستان چاہتے ہیں۔ پاکستان کے عوام کو بلاول کا ڈوبتا سسکتا پرانا پاکستان نہیں چاہیئے۔ بلکہ عوام نیا پاکستان چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا فیصلہ کن وقت آگیا ہے پاکستان کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں 13جماعتوں پر مشتمل کرپٹ ٹولے کا انتخاب کرنا ہے۔ یا اس شخص کا انتخاب کرنا ہے جس نے قوم اور ملک کی خاطر اقتدار کی قربانی دی۔ اگر ملک بچانا ہے قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو عمران خان کا انتخاب کرنا ہوگا۔ عمران خان ہی ملک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔ جلسے میں نقابت کے فرائض فیصل جاوید نے ادا کئے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر اختر ملک ودیگر نے خطاب کیا۔ رکن صوبائی اسمبلی مخدومزادہ زین حسین قریشی‘ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار‘ سابق وزیر مملکت ملک عامر ڈوگر‘ عون عباس بپی‘ ندیم قریشی‘ نجم شیراز سٹیج پر موجود تھے#









