اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام میں نہ جاتے تو ملک دیوالیہ اور بینک کرپٹ ہو جاتے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس وقت ملک مسائل میں گھرا ہوا ہے اور اگر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پروگرام میں نہ جاتے تو بینک کرپٹ ہوتے، ملک دیوالیہ ہوجاتا۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے چار پانچ ڈالر میں ملنے والی گیس اب 40 ڈالر میں ملتی ہے جبکہ فرنس آئل اور کوئلہ بھی مہنگا ہو گیا، پرانی دنیا میں نہیں رہ سکتے اور ہمیں اسی دنیا میں رہنا ہے جو ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ہم جب حکومت میں آئے تو نہیں معلوم تھا کہ حکومت رہے گی یا نہیں اور یہ بھی سوچا کہ شاید نگراں حکومت آ جائے گی۔ پھر پتہ چلا نگراں سیٹ اپ آ گیا تو آئی ایم ایف پروگرام مکمل نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو ملک کی بھاگ دوڑ دی گئی تو خزانے میں 10.5 ارب ڈالر تھے اور 24 ارب ڈالرز باہر دینے تھے جبکہ ہمیں 36 ارب ڈالرز کی ضرورت تھی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے بجلی کی پیداوار بڑھا کر بھی کوئی فائدہ مند کام نہیں کیا جبکہ چین نے بجلی لگائی اور ٹی شرٹس بنا کر پوری دنیا میں بھیجیں۔ اگر بجٹ خسارہ 5 ہزار 500 ارب ہو گا تو یہ کیسے پورا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی جتنی سیونگ کرتے ہیں اتنی ہی سرمایہ کاری کر دیتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرح ہم یہ نہیں کہیں گے ہمیں حالات معلوم نہیں تھے۔
آئی ایم ایف پروگرام میں نہ جاتے تو ملک دیوالیہ اور بینک کرپٹ ہو جاتے، وزیر خزانہ








