کراچی (نیوز ڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام ”نیا پاکستان “ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 2023 کے شروع میں یاوسط میں بہرحال الیکشن ہونے ہیں اور وہ الیکشن کا سال ہے ،ماہر معاشیات، ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات پچھلے کچھ عرصے سے خراب تھے، تاریخ کے بدترین سیلاب نے معاشی حالات کو حد سے زیادہ متاثر کیا ہے،ترجمان بیت السلام ویلفیئر ٹرسٹ،حذیفہ رفیق نے کہا کہ ہمارے سات ، آٹھ سو رضاکار گراؤنڈمیں موجود ہیں جو فیلڈ میں سرگرمیاں کررہے ہیں۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جہاں تک میری انفارمیشن ہے یہ جو فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیا ہے یہ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہوا ہے۔ یہ ایک طرف تو ہم سے کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی سازش کردی ہے اور ہم الیکشن کو ملتوی کروا رہے ہیں یا کروایا ہے۔ دوسری طرف وہی فیصلہ جو الیکشن کمیشن نے کیا اسی فیصلے کی تائید اسلام آباد ہائی کورٹ سے ہوگئی ہے۔پی ٹی آئی کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ جو بات کرتے ہیں اس کا آپس میں تال میل ہونا چاہئے ۔ایک طرف یہ شو کاز نوٹس دیتے ہیں کہ استعفیٰ کیوں واپس لیا دوسری طرف جو استعفے اسپیکر نے قبول کئے ہیں اس کے خلاف یہ ہائی کورٹ میں جاکررٹ کرتے ہیں کہ یہ استعفے قبول کیوں کئےگئے۔یہ کہنا کہ عمران خان کو نا اہل کرنے سے ساری پارٹی بالکل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی میں تو ایک سیاسی کارکن کے طور پر اس بات پریقین نہیں رکھتا کہ ہمیں اس طرح کی کوئی حکمت عملی سیاسی طور پر بنانا چاہئے۔ اس وقت بجلی اور گیس کی مد میں جو قیمت بڑھتی ہے وہ ہمارے کھاتے میں پڑ رہی ہے اس لئے لوگ ہم سے ناراض ہیں لیکن اس ناراضگی کی وجہ ہماری اپنی کوتاہی یا غلطی کم اور حالات زیادہ ہیں۔ان حالات میں اگر وہ اقدامات نہ کئے جاتے مشکل فیصلے نہ کئے جاتے تو شاید ملک ڈیفالٹ سے دوچار ہوجاتا۔عام انتخابات اس وقت فی الحال نہیں ہوسکتے کیوں کہ اس وقت پاکستان میں سیلاب کے باعث جو صورتحال ہے اس میں کیوں کر ممکن ہے کہ انتخابا ت ہوسکیں انتخابات فوری کرائے جانے کے امکانات نہیں ہیں۔ 2023 کے شروع میں یاوسط میں بہرحال الیکشن ہونے ہیں اور وہ الیکشن کا سال ہے ۔پنجاب میں ق لیگ کا کوئی بندہ انہوں نے وزیر نہیں بنایا اس وقت وہاں حالت ایسے ہیں کہ پنجاب حکومت اس وقت بچوں کا کھیل بنی ہوئی ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر کچھ لوگ سامنے آتے ہیں اور اس حکومت کو گرانے میں ہمارا ساتھ دیتے ہیں تو ہم کیوں نہ ان کی با ت سنیں گے اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔اگرپانچ ، چھ،آٹھ لوگ استعفیٰ دے دیتے ہیں اور اس کے بعد گورنر چوہدری پرویز الٰہی سے کہتے ہیں کہ آپ اعتماد کا ووٹ لیں تو وہ نہیں لے سکیں گے۔ جب وہ اعتماد کا ووٹ نہیں سکیں گے تو اس کے بعد وزیراعلیٰ کا الیکشن ہوگا ایسی صورتحال میں اسمبلی میں شاید اکثریت کسی کے پاس بھی نہ ہو۔
2023 ء کے آغاز یا وسط میں الیکشن ہونگے، رانا ثناء اللّٰہ








