بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  انتونیوگتریس کی سادگی ہمار ے عیاش حکمرانوں ،بیوروکریسی کیلئے قابل تقلیدہے،ابراہم مغل

 اسلام آباد(ممتاز نیوز)پاکستان ایگری فورم کے چیئرمین ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگتریس کادورہ پاکستان حکمرانوں ، بیورکریسی کیلئے مثال ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی مراعات وتنخواہ ہمارے کسی حکمران سے کم نہیں لیکن انہوں نے ساد گی سے احساس دلایا، پیر کو وزیراعظم میاں شہباز شریف، چیف جسٹس عمر عطا بندیال،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وبیوروکریسی کے نام کھلے خط میں ڈاکٹر ابراہیم مغل نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے اداے کے سربراہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔انکا لباس اور جوتے دیکھیں یہ چاہتے تو دنیا کے مہنگے برینڈ کے کپڑے جوتے گاڑی گھر نوکر و عیاشی چاہتے تو فوری مل جاتے لیکن نہیں یہ جس حلیہ میں تھے اس حلیہ میں پریس کانفرنس میں نہ صرف آئے بلکہ انکے یہ جوتے اور ایسے کپڑے دلیل اور گواہی تھے کہ آپکی پہچان شناخت یا قدر مہنگے جوتے کپڑے یا بڑی گاڑیاں۔ دولت نہیں اور یہی وجہ کہ آج مغرب ترقی پر ہے ان لوگوں کے سامنے گاڑیوں جوتوں نوکروں بڑے گھروں اور کپڑوں سے زیادہ انسان اور انسانیت کی قدر و اہمیت اور احساس ہے ان کیلئے یہ باقی چیزیں کوئی اہمیت نہیں ہے دنیا میں کرونا ویکسین سے لیکر سیلاب ہو یا کوئی اور آفت یا بیماری علاج سے لے کر امداد تک یہی ممالک سب سے آگے رہتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ انسان بے شک پھٹے پرانے کپڑے ہوں لیکن اس میں انسانیت اور احساس ہو جبکہ ہماراملک غریب ترین، ہمارا بابو امیر ترین یاد ہوگاایک کوئٹہ کے سیکرٹری فنانس کے گھر سے اسی کروڑ روپیہ پکڑا گیا تھا پاکستان کے بڑے بڑے پلازے بے نامے گھر کوٹھیاں زمینیں کمپنیاں ادارے کاروباری مراکز و گاڑیوں کے یہی بابو مالک ہیں اور بدنام سیاستدانوں اور فوج کو کیا ہوا ہے اس قبیل کے 17گریڈ افسر کے پاس اسی لاکھ کی گاڑی دفتر کے لئے چالیس لاکھ والی گھر کے لئے چھ نوکر100 کینال کی کوٹھی میں رہائش جہاں چالیس مالی کام کریں مفت بجلی گیس سبزی گوشت پھل گاڑیوں کا تیل گویا عوام کو ایک چھوٹے سے چھوٹا بابو بھی 10لاکھ روپے مہینہ پڑتا ہے جو عوام کے ٹیکس سے خرچ ہوتا ہے اور کام دھیلے کا نہیں کام تو ٹیکنوکریٹ کرتے ہیں نئی دنیا ہے وزیراعظم شہباز شریف ، شاہد خاقان عباسی اور مریم بی بی مل کر اعلان کریں ملک میں یکم جنوری 2023سے تعلیم صحت عدلیہ اور ملک پر جان نچھاور محکمہ کے علاوہ کوئی بھی بڑے سے بڑا افسر زیادہ سے زیادہ ایک کنال کے گھر میں رہے گا ایک ہزار سی سی سے بڑی گاڑی نہیں ہوگی کیونکہ ملک میں اب سڑکوں کا جال ہے ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ سے اوپر تیس فیصد ٹیکس دینا ہوگا چھوٹے سے چھوٹے سرکاری ملازم کی تنخواہ 40 ہزار ہوگی مزدور کی تنخواہ تیس ہزار ہوگی بجلی کے تین سو سے اوپر یونٹ کا نرخ یکساں ہوگاکسی بھی سرکاری محکمہ ماسوا درج بالا تیل کوٹہ ختم ہے تھرڈ پارٹی ٹرانسپورٹ جہاں بہت مجبوری ہو کریں زراعت لائیو سٹاک میں خاطر خواہ سبسڈی ہوگی مگر زرعی لوازمات پر ٹیکس ہوگارائے ونڈ کے قریب آئی ٹی سٹی بسائیں اور سالانہ آئی ٹی کی برآمد 40ارب ڈالر ہو جس ملک میں ہماری کم از کم ایکسپورٹ 40کروڑ ڈالر نہیں ہے وہاں عیاشی کے لئے بیٹھے حکومت دفاتر بند اور عملہ واپس بلائیں چند ممالک کے علاوہکسی بھی سرکاری افسر کے پاس بہت مجبوری میں ایک نوکر مل سکے گاباہر کے دورے فنانس ایکسپورٹ ٹیکنالوجی کے علاوہ بندبے روزگانوجوان کو ماہانہ بیس ہزار وظیفہ ملے گا مگر اسکی مدت چار سال سے زیادہ نہیں ہوگی کائبر 9فیصد پر لانا ہوگاہر سال پانچ لاکھ مرد اور چارلاکھ مستورات کو بیرون ملک بھیجا جائے گا جن کی پہلے دو سال کی تنخواہ کا چالیس فیصد پاکستانی حکومت دے گی گھاٹے والے ادارے فوری پرائیویٹ کریں گے ترجیح اس ادارے کے ملازمین ہوں گے۔