بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 بہادربنو،تمہیں سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے?بیان کا دفاع نہ کرنے پر عمران سینئررہنماؤں پر برس پڑے

   اسلام آباد(ممتازنیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیانات خصوصاً آرمی چیف کی میرٹ پر تعیناتی سے متعلق بیان کا دفاع نہ کرنےپرشاہ محمود قریشی سمیت سینئر پارٹی رہنماؤں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہےکہ انہیں سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے ، اگر آپ خوفزدہ ہوں گے تو عام آدمی کیا کرے گا؟۔ اردونیوزیب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جن کا دفاع کرتے ہوئے تحریک انصاف کی سینئیر قیادت مشکل میں نظر آئی۔ ایسے ہی ایک بیان میں جب عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق میرٹ کی بات کی تو تحریک انصاف کی سینئر قیادت بشمول اسد عمر اور شاہ محمود قریشی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ انہوں نے چیئرمین عمران خان کا بیان سنا ہی نہیں۔ اس صورت حال کا نوٹس لیتے ہوئے اب عمران خان نے تمام پارٹی عہدیداروں اور قائدین کو ’یک زبان ہو کر جواب دینے کی‘ ہدایات جاری کی ہیں۔
تحریک انصاف کے باوثوق ذرائع کاکہنا ہے کہ عمران خان نے سخت بیانات کا دفاع کرنے میں سینئر قیادت کی جانب سے ہچکچاہٹ کا شکار ہونے پر انتہائی برہمی کا اظہار کیا اور ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خوفزدہ نہ ہوں بلکہ یک زبان ہو کر جواب دیں۔ عمران خان نے پارٹی قیادت کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ دو چار لوگ بات کرتے ہیں باقیوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ خوفزدہ ہو کر خاموش نہ رہیں، ایک کو خوفزدہ کرنا آسان ہے لیکن زیادہ لوگ بات کریں گے تو کوئی خوفزدہ نہیں کر سکتا۔عمران خان نے کہا کہ میں اب یہ نہ دیکھوں کہ کسی معاملے میں چند لوگ بات کر رہے ہیں اور باقی خاموش رہیں۔ سب سوشل میڈیا پر موثر آواز رکھتے ہیں لیکن خوف میں آ کر خاموش رہ جاتے ہیں، اگر آپ خوفزدہ ہوں گے تو عام آدمی کیا کرے گا؟واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد بار ایسے مواقع سامنے آئے ہیں جہاں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے سخت بیانات خصوصی طور پر اسٹیبلشمنٹ سے متعلق سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ عمران خان کے ان بیانات کے بعد تحریک انصاف کی قیادت بھی کشمکش کا شکار نظر آئی ہے۔ رپورٹ کےمطابق پارٹی کے ارکان کی جانب سے دھمکیاں ملنے کی بھی شکایات بھی کی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ گھر والوں کو بھی ہراساں کیے جانے کی دھمکیاں ملتی ہیں، جبکہ ایف آئی اے، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی پولیس کے رویے کی بھی شکایات کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شریف آدمی دھمکیوں سے خوفزدہ ہی ہوتا ہے لیکن آپ سب نے یک زبان ہو کر بات کرنی ہے اور خوفزدہ ہو کر خاموش رہنے کی ضرورت نہیں۔سابق وزیراعظم نے پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس کی اعلیٰ افسران کے سامنے معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔ واضح رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق دیے گئے انٹرویو سے متعلق بھی تحریک انصاف کی سینئیر قیادت کی تقسیم نظر آ رہی ہے۔