نئی دہلی (نیوزڈیسک)بھارت نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ایف۔16 لڑاکا طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے سازو سامان کی فروخت کے 45 کروڑ ڈالر کے معاہدے کی منظوری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدھ کو بھارت کے وزیر دفاع نے امریکی ہم منصب کو امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اس فیصلے پر بھارت کے تحفظات سے آگاہ کیا۔
واضح رہے کہ امریکی ساختہ ایف۔16 لڑاکا طیاروں کی پاکستان کے عسکری ہتھیاروں میں کافی اہمیت ہے جبکہ اس کے حریف ملک بھارت کو خدشہ ہے کہ یہ طیارے اس کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکہ کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان کو ایف۔16 طیاروں کی دیکھ بھال کے لیے سازو سامان کی فروخت کے 45 کروڑ ڈالر کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔
بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ایف۔16 طیاروں کا سامان فراہم کرنے کے حالیہ پیکج کے حوالے سے بھارت کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔‘
انہوں نے امریکی وزیر دفاع للوئیڈ آسٹن سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کو ’گرمجوشی پر مبنی اور تعمیری‘ قرار دیا ہے۔
بھارت کے وزارت دفاع نے مزید کہا کہ ’دونوں وزراء دفاع نے بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاع کے شعبوں میں تعاون اور دونوں ممالک کی افواج کےدرمیان روابط کو مضبوط بنانے پر بھی بات چیت کی۔‘
پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقت کے حامل ملک ہیں۔ پاکستان کا ہتھیاروں کے لیے زیادہ تر انحصار چین پر ہے لیکن ایف۔16 لڑکا طیارے اس کے پاس موجود ہتھیاروں میں سب سے زیادہ جدید اور مؤثر شمار ہوتے ہیں۔
I conveyed India’s concern at the recent US decision to provide sustenance package for Pakistan’s F-16 fleet.
Look forward to continuing dialogue with Seceratry Austin to further consolidating India-US partnership. 3/3
— Rajnath Singh (मोदी का परिवार) (@rajnathsingh) September 14, 2022









