اسلام آباد(خبرنگارخصوصی) نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (این سی آر سی) کے قائم مقام چیئرمین جواد اللہ کہا ہے کہ این سی آر سی کے ایکٹ کو مزید موثر بنانے کیلئے ترامیم کی جا رہی ہیں جس کے نتیجے میں اہداف کے حصول میں آسانی کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں کو مناسب نمائدگی بھی دی جا سکے گی۔ این سی آر سی کے قائم مقام چیئرمین جواد اللہ کی زیرصدارت این سی آر سی کے ایکٹ2017 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ایک مشاورتی اجلاس بلایا گیا تاکہ کمیشن کو مکمل طور پر خودمختار قومی انسانی حقوق کا ادارہ بنایا جا سکے۔
اجلاس میں یونیسیف کی نمائندگان ڈینیلا لوسیانی اور فرح الیاس کے علاوہ قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے قائم مقام چیئرمین جواد اللہ نے کہا کہ ایکٹ 2017 میں قانونی سقم دور کرنے کے لئے ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ان ترامیم میں تمام صوبوں کی متناسب نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے اس کے علاوہ کمیشن کو بااختیار بنایا جا رہا ہے۔ ماہر قانون عطاء المصطفی نے پاکستان میں انسانی حقوق کے اداروںکے قوانین اور ورکنگ کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اہداف اور متعین مینڈیٹ کے حصول کے لئے موثر قانون سازی اور ادارے کا بااختیار ہونا بہت ضروری ہے۔
یونیسیف کے چائلڈ پروٹیکشن سیکشن کی چیف ڈینیلا لوسیانی نے بچوں کے حقوق کے تحفظ، فروغ اور ترقی کے لیے نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کمیشن کے لئے ایک مربوط قانون سازی پر زور دیا۔ اجلاس میں تجویز کیا گیا کہ سول سوسائٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے تاکہ کمیشن کے مینڈیٹ کو مضبوط کیا جاسکے اس کے علاوہ اراکین کی تقرری اور برطرفی کا ایک مربوط میکنزم طے کیا جائے، کمیشن میں گلگت بلتستان کے لیے ایک نشست مختص کی جائے اس کے علاوہ اجلاس میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کو موثر طریقے سے روکنے کیلئے کمیشن کے سوموٹو کے اختیارات میں توسیع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر کمیشن کی رکن ڈاکٹر روبینہ فرید نے تمام شرکاء کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
این سی آر سی ایکٹ کو مزید موثر بنانے کیلئے ترامیم کافیصلہ ، صوبوں کو مناسب نمائدگی دی جائے گی،جواد اللہ








