راولپنڈی(نیوزڈیسک)گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد راولپنڈی میں نان بائیوں کی جانب سے روٹی کی قیمت میں 10 روپے اضافے کا اعلان کر دیا گیا۔
فلور ملز کو گندم کی سپلائی میں کمی اور امدادی قیمت میں اضافہ کے باعث گندم کا بحران شدت اختیار کرنے لگا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے گندم کی سرکاری قیمت بڑھا کر3ہزار روپے کر دی۔
آٹا کی قیمت میں بے پناہ اضافہ سے نان بائیوں نے روٹی، نان اور پراٹھہ کی قیمت میں 10، 10 روپے اضافہ کا اعلان کر دیا ہے۔
نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر شفیق قریشی نے بتایا کے سرخ آٹے کی پتیری روٹی کی قیمت 12 روپے سے بڑھا کر20 روپے، سفید فائن آٹے کی خمیری روٹی قیمت 20روپے سے بڑھا کر30 روپے، تل والے نان کی قیمت 35 روپے جبکی تندوری پراٹھہ اور روغنی نان کی قیمت 50 روپے کر دی گئی ہے۔
نان بائی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انہیں سرخ آٹے کی بوری 7ہزار روپے اور میدہ، فائن آٹے کی 80 کلو کی بوری 9500 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔
فلور ملز کا موقف ہے کہ فلور ملز کو کوٹہ کے مطابق سرکاری گندم سپلائی نہیں ہو رہی مارکیٹ میں گندم 3600 روپے من فروخت ہونے لگی ہے جس سے آٹے کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔
شہر بھر میں 10 کلو آٹے کا تھیلہ 600روپے، 20 کلو آٹے کا تھیلہ 1300 روپے میں دستیاب ہے اور فائن آٹے کا تھیلہ1600روپے میں فروخت ہونے لگا ہے جبکہ ضلع بھر کے 4055 آٹا چکی مالکان نے آٹے کی قیمت بڑھا کر 125 روپے فی کلو کر دی۔









