ملتان(مقبول حسین) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی پی‘ ن لیگ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے کبھی مخلص نہیں تھے۔ یوسف رضا گیلانی بطور وزیراعظم اگرچاہتے تو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے کوئی قدم اٹھا سکتے تھے۔ انہوں نے صوبہ تو درکنار سیکرٹریٹ کے قیام کیلئے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ بطور وائس چیئرمین تحریک انصاف دو مرتبہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے پی پی‘ ن لیگ کی قیادت کو خط لکھے۔ دونوں مرتبہ جواب نہیں آیا۔ دوتہائی اکثریت نہ ہونے کی بدولت صوبہ نہیں بناسکے لیکن سیکرٹریٹ بنا کر صوبے کے قیام کیلئے راہ ہموار کردی۔ انشاء اللہ جنوبی پنجاب کے عوام نے تحریک انصاف پر اعتماد کیا اور جنرل الیکشن میں دو تہائی اکثریت ملی تو جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کا تشخص دیں گے۔ سابقہ ادوار کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایس ڈی پی سیکرٹریٹ ملتان میں ایس ڈی پی کے چیئرمین رانا فراز نون اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجا ب صوبے کا قیام تحریک انصاف کے منشور میں شامل ہے۔ اورتحریک انصاف کے ہاتھوں سے ہی جنوبی پنجاب کے باسیوں کو ان کا حق ملے گا۔ جنوبی پنجاب کے عوام سمجھ دار ہیں۔ وہ بخوبی جان چکے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے پی پی‘ ن لیگ کبھی مخلص نہیں رہیں۔ ایک طویل عرصے تک دونوں جماعتیں اقتدار میں رہی لیکن صوبے کے قیام کیلئے کسی نے عملی قدم نہیں اٹھایا۔ تحریک انصاف نے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں۔ ملتان‘ بہاولپور میں سیکرٹریٹ کا قیام۔جنوبی پنجا ب کیلئے 33 فیصد علیحدہ بجٹ مختص کرنا‘اختیارات کے ساتھ سیکٹریز لیول کے افسران کی تعیناتی جیسے تاریخی اقدامات تحریک انصاف کے دورہ حکومت میں اٹھائے گئے۔ اور یہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔ آئندہ ہونے والے الیکشن میں جنوبی پنجاب صوبے کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کو اس خطے کے باسی بری طرح مسترد کریں گے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی کی قیادت نے این اے 157 ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی امیدوار محترمہ مہر بانو قریشی کی حمایت کا اعلان کیا۔ قبل ازیں موضع لوٹھڑ میں سعید لوٹھڑ کے ڈیرے پر‘ موضع برہمن والا اوریوسی ملتانی والا میں منعقدہ مختلف عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا امپورٹڈحکمرانوں کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکاہے۔ امپورٹڈ حکمرانوں کا بستر بوریا گول ہونے والا ہے۔ پی ڈی ایم میں انتشا رہے۔ جلد اپنے انجام کو پہنچنے والی ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی نا اہلیت دیکھ کر عوام ان سے مزید متنفر ہو چکے ہیں۔ عمران خان واحدعوامی لیڈر ہیں جن پر پاکستان کی عوام اعتماد کرتے ہیں۔ عوام نے فیصلہ کرلیا ہے امپورٹڈ حکمرانوں کو زبردستی گھر بھیج کر ایک بار پھر عمران خان کو ملک کا وزیراعظم بنائیں گے۔ وہ وقت دور نہیں جب عمران خان ایک بارپھر ملک کے وزیراعظم ہونگے۔ لٹیرے اور چور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ انہوں نے کہا ملک اس وقت بحرانوں کی زد میں ہے۔ معاشی اور سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے۔ جب تک سیاسی معاملات بہتر نہیں ہوتے اس وقت تک ملکی معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ امپورٹڈحکمران رسک بن چکے ہیں۔ جب تک یہ لوگ اقتدار میں رہے ملک بحرانوں کی زد میں رہے گا۔ حکمرانوں کے پاس ملکی معیشت کو سنبھالنے کا کوئی ایجنڈا نہیں۔ ملک کو معاشی اور سیاسی استحکام دلانے کا واحد راستہ فوری انتخابات ہیں۔ عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت کے کئے گئے فیصلے ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا 16اکتوبر کا دن پی ڈی ایم کی شکست اور تحریک انصاف کی فتح کا دن ہوگا۔ اس دن عوام بلے پر ٹھپہ لگا کر بڑھتی ہوئی مہنگائی کا جواب دیں گے۔ مہنگائی کی ذمہ دار پی پی‘ ن لیگ سمیت پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتیں ہیں۔ مہنگائی ان کے گلے کاطوق بن چکا ہے۔ این اے 157کی باشعور عوام 5ماہ میں مہنگائی کو ریکارڈ سطح پرلے جانے والی جماعت پی پی اور ن لیگ کے مشترکہ امیدوار موسیٰ گیلانی کو بھر پور شکست دیکر مہنگائی کا بدلہ لیں گے۔16اکتوبر کو تیر کے بے تحاشہ ٹکڑے ہوں گے اور ہر طرف بلا چلے گا۔ اس موقع پربستی لوٹھڑ کے ریاض خان نے پی ٹی آئی میں شمولیت اور ضمنی انتخاب میں محترمہ مہر بانو قریشی کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ملک واصف مظہر راں اور دیگر اکابرین بھی ہمراہ موجودتھے۔
امپورٹڈحکمرانوں کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ،عمران خان ایک بارپھر وزیراعظم ہونگے،شاہ محمود








