اسلام آباد(ممتاز نیوز )وزیراعظم پاکستان اوروفاقی وزراء کی آڈیولیکس کےمعاملے پربڑے پیمانے پرتحقیقات شروع کردی گئیں،سینئرصحافی طلعت حسین نے انکشاف کیاکہ وزیراعظم کوابتدائی طور پردی جانے والی رپورٹ کے مطابق جاسوسی کے عمل میں دوسرے طریقوں کے علاوہ موبائل کے سپیکر کے ذریعے بات چیت سنی اور ریکارڈ کی گئی،ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس ادارے آڈیولیکس معاملے کی ہرپہلو سے تحقیقات کررہے ہیں،وزیراعظم ہائوس سے لیک ہونے والی 100گھنٹے تک کی ریکارڈنگ کا8جی بی ڈیٹا ڈارک ویب پرتین لاکھ پچاس ہزار ڈالر میں فروخت کے لیے پیش کیاگیاہے،ذرائع کے مطابق اس گروہ نے منظم انداز میں کارروائی کی ہے ،گروہ کی طرف سے اس سے قبل حکومت سے ساڑھے تین لاکھ ڈالر کامطالبہ کیاگیاتھا،حکومت کی جانب سے انکار کے بعد گروہ نے بلیک میل کرنے کے لیے آڈیو کاکچھ حصہ ریلیز کردیا،آڈیولیکس کے معاملے کو قومی سلامتیکے لیے بڑاخطرہ قرار دیا جا رہا ہے
آڈیولیکس کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کوپیش ،اداروں نے ہرپہلو سے تحقیقات شروع کردیں








