راولپنڈی (وقار حسین کاظمی) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے اڈیالہ جیل کے دورے کے بعد آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم بیگ نے رشوت نہ دینے کی پاداش میں راولپنڈی کی سینٹرل جیل اڈیالہ میں قیدیوں و حوالاتیوں پر بہیمانہ تشدد کرنے انہیں ٹارچر سیلوں اور قصوری چکی میں بند کرنے،کرپشن اور رشوت کا بازار گرم کرنے پرجیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (ایگزیکٹو)،انچارج بیرک، انچارج سزا سیل سمیت 13افسران و اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے خلاف محکمانہ کاروائی کی سفارش کر دی جبکہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے نیٹ ورک میں شامل 10ہیڈ وارڈر اور17وارڈرزکوتبدیل کر کے دوسرے اضلاع میں بھجوا دیا گیا ہے۔ مذکورہ تمام افسران کی معطلی و تبدیلی کے احکامات ان کے محکمانہ فرائض میں غفلت،قیدیوں و حوالاتیوں پر بلاجواز بہیمانہ تشدد،قواعدو ضوابط کے منافی اقدامات اور کرپشن سمیت دیگر شکایات کی بنیاد پرجاری کئے گئے ۔اس حوالے سے 3الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیئے گئے ہیں مذکورہ افسران و اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے اڈیالہ جیل کے دورہ کے بعدکیا گیا۔ آر ڈر نمبر35999میں ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے جاری 20ستمبر کے لیٹر نمبر SO(Prs)5-8/2016(v-i)کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو مسماۃ امتیاز بی بی سکنہ اسلام آباد کی جانب سے اڈیالہ جیل میں دہشت گردی کے مقدمہ میں پابند سلاسل اس کے بیٹے شہاب حسین پر وحشیانہ تشد دسمیت دیگر سنگین نوعیت کے الزامات پر مبنی تحریری شکائیت کی گئی تھی جس میں انصاف کی فراہمی کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کے بیٹے پرجیل میں وحشیانہ کر کے اس کی انگلیاں توڑ دی گئیں اور پھر اسے ٹارچر سیل میں رکھا گیا جس پر22ستمبر کو جاری ہونے والے لیٹر نمبر C&E/2022/FFI/7792 کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے 24ستمبر کوڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد ایسٹ اور ویسٹ کے علاوہ وزارت انسانی حقوق کے حکام کے ہمراہ اڈیالہ کا دورہ کیا دورے کے دوران متعدد حوالاتیوں و قیدیوں نے چیف جسٹس کو جیل میں تشدد اور قیدیوں وحوالاتیوں سے رشوت طلب کرنے ان کی چیزیں گم اور چوری ہونے کے علاوہ چھینے جانے کی شکایات کیں اور شکایات میں واضح طور پر چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ (ایگزیکٹو)محمد اکرم کیسے ان پر رشوت نہ دینے کی پاداش میں تشدد کرواتا ہے اس موقع پر چیف جسٹس کو یہ بتایا گیا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اپنی17سالہ سروس کے دوران 10سال 11 ماہ اور5دن سے راولپنڈی میں ہی تعینات ہے ۔اس طرح 21اکتوبر2006سے 18جنوری2015تک بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور19جنوری2015سے 24اکتوبر2022تک بطور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل میں تعینات ہے اس طرح آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے جاری آرڈرز میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرام نے یہاں طویل تعیناتی کے دوران جیل میں اپنی جڑیں مضبوط کیں اور نیٹ ورک بنا لیا جبکہ ریکارڈ کے مطابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نااہل اور کمزور انتظامی افسر ثابت ہوا جو قواعدو ضوابط کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے میں ناکام رہا جس کے خلاف جیل کے تمام حوالاتیوں اور قیدیوں کو متعدد شکایات تھیں رپورٹ میں کہا گیا کہ ان حقائق اور شکایات کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم مروجہ قوانین اور جیل ایس او پیز کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے آئی جی جیل خانہ جات نے چیف جسٹس کی آبزرویشن کی روشنی میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کاروائی کی سفارش کر دی ہے۔ ادھرڈی آئی جی جیل خانہ جات کامران انجم کی جانب سے تحریری آر ڈر نمبر Estt/2022/430کے تحت تبدیل کئے جانے والے 10ہیڈ وارڈرزمیں غلام عباس، ناصر محمود، منیر احمداورساجد یاسین کو ڈسٹرکٹ جیل گجرات،محمد حیات،منیر احمداور غلام مصطفی کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم،فیصل الیاس اورمحمد حسنات کوڈسٹرکٹ جیل چکوال جبکہ محمد ارشد کو ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین بھجوا دیا گیا ہے جبکہ آر ڈر نمبر Estt/2022/430کے تحت معطل وتبدیل کئے گئے17وارڈرزمیں وارڈر سبطین عباس،عامر حسین کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم، طاہر محمود کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک اوروارڈر محمد راحیل کوڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین بھجوا دیا گیا ہے اسی طرح وارڈرمحمد ظفر اقبال کے ساتھ مقصود حسین،محمد راشد،شہزاد حسین اور ناصر محمود کو ڈسٹرکٹ جیل گجرات، سجاد صدیق کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم،محمد ظہیر، نوشیر خان اور محمد ثاقب یاسین کو ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین،وارڈر عابد محموداور شکیل عادل کو اٹک لیاقت علی اوراعظم حسین کو ڈسٹرکٹ جیل چکوال کو فوری طور پر چارج چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔









