بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وفاقی کابینہ کا اجلاس:وزیراعظم نے بیرون ملک دوروں پر اعتماد میں لیا،متعدد اہم فیصلے

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وز یراعظم نے تمام کابینہ ممبران کو خوش آمدید کہا۔ کابینہ کے آغاز میں سیکرٹری خارجہ نے اجلاس کو وزیراعظم کے دورہ ثمرقند اور دورہ نیویارک پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ثمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم کی قلیل مدت میں 10 سربراہانِ ممالک جن میں چینی صدر شی جن پِنگ اور روسی صدر ولادمیر پیوٹن کے علاوہ وسط ایشیائی ممالک کے صدور و سربراہان سے ملاقاتیں شامل تھیں۔ روسی صدر سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں بشمول توانائی میں وسیع تعاون پر اتفاق ہوا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے روس سے کم لاگت پر گندم خریدنے میں پاکستان کی دلچسپی سے آگاہ کیا جس کا روسی صدر نے خیر مقدم کیا۔ مزید برآں روس اور پاکستان کے درمیان بین الحکومتی کمیشن کو مزید متحرک کرنے اور پاکستان کی طرف سے جلد ایک اعلیٰ سطحی وفد کے روس کے دورے پر اتفاق ہوا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت اور خطاب بھی دورے کا اہم حصّہ تھے۔ فورم اور دو طرفہ ملاقاتوں میں بھرپور طریقے سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والے تاریخی سیلاب اور سیلاب متاثرین کی مصیبتوں کو اجاگر کیا گیا۔ جس پر تمام ملکوں نے حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ توانائی کے شعبے، علاقائی رابطوں، تجارت و سرمایہ کاری اور لوگوں کے لوگوں سے روابط کے حوالے سے تعاون پرٹاسک فورسز کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جن کے مثبت نتائج جلد متوقع ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے شرکاء نے پاکستان کے افغانستان میں ناگزیر و دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی اقدامات میں اضافے اور خطے میں دہشت گردی کی روک تھام اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن و ترقی کے لیے مسئلہ کشمیر، کشمیری لوگوں کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے موقف کی تائید کی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی شرکت کے حوالے سے کابینہ کو آگاہ کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کی ذمہ داری لیتے ہوئے پاکستان جیسے ایسے ممالک جن کا عالمی کاربن فٹ پرنٹ میں حصہ انتہائی کم ہے کی مدد کے لیے آگے بڑھنے کے مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی۔ پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے حمایت اور مدد کی اپیل دنیا بھر تک پہنچانے میں معاونت کے ساتھ ساتھ اس موقع پر مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتوں میں پاکستان کو سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس موقع پر فرانس کے صدر Emmanuel Macronسے وزیراعظم کی ملاقات میں فرانس، پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ فرانسیسی صدر کی طرف سے فرانس میں پاکستان کے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ڈونرز کانفرنس کے انعقاد کی پیش کش کی گئی جو کہ نہ صرف سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے بلکہ فرانس پاکستان کے تعلقات میں مزید استحکام کا باعث ثابت ہوگی۔ اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مجموعی طور پر پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والے حالیہ سیلاب پر حمایت و مدد کی یقین دہانی اور سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ کی طرف سے پاکستان کو بھرپور تعاون حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف ایک دفعہ پھر سے واضح کرنے اور دنیا کو یہ باور کروانے، کہ پُر امن جنوبی ایشیاء اور خطے کے لوگوں کی معاشی ترقی کے لیے مسئلہ کشمیر کا پائیدار و مستقل حل ناگزیر ہے، میں اہم پیش رفت ہوئی۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے دورہ برطانیہ کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے آنجہانی ملکہ الزبتھ دوئم کی آخری رسومات میں شرکت کے ساتھ ساتھ بادشاہ چارلس سوئم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بادشاہ چارلس سوئم نے وزیراعظم سے سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس اور ہمدردی کے اظہار کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔وزیراعظم نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت جاری وزیراعظم فلڈ ریلیف کیش پروگرام کی مد میں 20 لاکھ خاندانوں کو 50 ارب روپے کی تقسیم مکمل ہونے پر وزارت تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ، BISP ا ور متعلقہ حکام کی پذیرائی کی اور اس امر پر زور دیا کہ تقسیم کے مرحلے میں آنے والی شکایات کا فوری ازالہ کرکے کابینہ کو اس حوالے سے آگاہ کیا جائے۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا کہ فلڈ ریلیف کیش پروگرام میں شفافیت کا عنصر نہایت اہمیت کا حامل ہے جس کو وفاقی حکومت یقینی بنا رہی ہے۔ وزیراعظم نے سندھ کے اضلاع میں موجود سیلابی پانی کے اخراج کے لیےNDMA, PDMAs, NFRCC صوبائی حکومت اور متعلقہ محکموں کو فوری طور پر جامع منصوبہ بندی بنانے اور عملی اقدامات کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ اس حوالے سے کابینہ کو فرانس کی طرف سے اضافی واٹر پمپس کی فراہمی سے بھی آگاہ کیا گیا جس پر وزیراعظم اور کابینہ نے حکومت ِ فرانس کے لوگوں اور پاکستان میں فرانس کے سفیر کا شکریہ ادا کیا۔
وفاقی کابینہ نے سرمایہ کاری بورڈ کی سفارش پر 27-07-2021 کو وفاقی کابینہ میں لیے گئے فیصلے کی روشنی میں موجود اور مستقبل کی Bilateral Investment Treaty (BIT)/ Treaties with Investment Provisions (TIPs) کے حوالے سے جامع لائحہ عمل کی منظوری دی۔ اس حوالے سے 3 بڑے معاہدے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ مختلف ممالک سے معاہدوں کے حوالے سے ایک جامع، پائیدار اور مستقل لائحہ عمل پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم نے ترجیحی بنیادوں پر اس لائحہ عمل کے اطلا ق اور عمل درآمد کی ہدایت جاری کی۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی سفارش پر Living Indus Initiative کے تحت تمام متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں بشمول حکومتِ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل سٹیئرنگ کمیٹی کی تشکیل کی اصولی منظوری دی۔ کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ Living Indus Initiative میں پارلیمان کی طرف سے تجاویز کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔مزید برآں منصوبے کے حوالے سے گراس روٹ لیول پر آگاہی کے لیے اس کو اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں شامل کیا جائے۔ Living Indus Initiative 25 مجوزہ اقدامات سے دریائے سندھ اور اس کی معاون دریاؤں سے منسلک قدرتی وسائل اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے مستقبل میں بچاؤ کی خاطر انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ضروری اقدامات(Adaptation) یقینی بنائے گا۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ صنعت و پیداوار کی سفارش پر ربیع فصل کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو G2G کی بنیاد پر 3 لاکھ میٹرک ٹن یوریا درآمد کرنے کی اجازت کی منظوری دی۔