کراچی: ایک انٹرویو میں مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے کہ عمران کی آڈیو آئی تو سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہماری پر کچھ نہیں، تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے کہا کہ سائفر وہ حقیقت جس کی وجہ سے154 لوگ اسمبلی سے استعفیٰ دیکر باہر بیٹھے ہیں، انٹرویو میں محمد زبیر نے مزید کہا کہ نیوز لیکس میں کچھ ہوا ہی نہیں تھا،اس میں تھا ہی کیا، ہم نے کیا کیا تھا غداری کہاں سے آگئی تھی اس میں تو ہماری حکومت کا تختہ کرنے کے لئے ایک ڈرامہ رچا گیا تھا اس میٹنگ میں تو جو دہشت گردی میں ملوث آرگنائزیشنز ہیں ان پر بات ہورہی تھی کہ ان پر ایکشن کیا لیا جائے ۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے جو عمران خان نے کیا ہے وہ تو ایک بیانیہ بنایا گیا ہے اور اس کو خودداری کا نام دیا گیا ہے ۔ مجھے بتائیں کس چیز کی خوداری ۔یہ کھیل کس کے ساتھ رہے تھے ملک کی تقدیر کے ساتھ کھیل رہے تھے صرف اپنی حکومت بچانے کے لئے انہوں نے تو ملک کو داؤ پر لگادیا تھا ۔ عمران خان کی آڈیو آئی تو سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگئی ہماری جو تین چار دن میں آڈیو آئیں اس وقت کوئی سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی ۔ میرا تجزیہ تو یہ ہے کہ سب سے بڑا ایشو یہ ہے کہ کیونکر وزیراعظم ہاؤس سے اس قسم کی آڈیو لیکس ہوئیں اس سے تو ظاہر ہورہا ہے کہ یہ معاملہ پچھلے حکومت سے چل رہا تھا اور آج تک کا مجھے نہیں پتہ کہ چل بھی رہا ہے کہ نہیں چل رہا ۔ عمران خان کے پیچھے اب وہ قوتیں نہیں ہیں جنہوں نے 2014ء کا دھرنا کامیاب بنایا تھا اس لئے اب وہ جو لانگ مارچ کی دھمکی دے رہے ہیں وہ آسان نہیں ہوگا ۔ انٹرویو میں تحریک انصاف کے رہنما صداقت علی عباسی نے مزید کہا کہ یہ سائفر تو وہ حقیقت ہے جس کی وجہ سے ہم 154 لوگ قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیکر باہر بیٹھے ہوئے ہیں اچھا ہوا کہ حکومت نے جان بوجھ کر یہ گفتگو لیک کرائی اس سے تین چار باتیں ثابت ہوگئیں کہ عمران خان جس سائفر مراسلے کی بات کررہے تھے آج قوم دیکھ لے یہ سائفر حقیقت تھا ۔ اور اسی سازش کے ذریعے عمران خان کی حکومت کو ہٹایا گیا اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی عوام عمران خان کو دوبارہ لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ عمران خان کے پیچھے جو مخلوق ہے وہ ایسے ہی نہیں ہے ۔لوگ بے وقوف نہیں ہوتے۔
عمران کی آڈیو آئی تو سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، ہماری پر کچھ نہیں، محمد زبیر








