لاہور(ممتازنیوز) وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے وسابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے نے 30 سے زائد صفحات پر مشتمل چالان عدالت میں جمع کردیا گیا۔
مونس الٰہی کے خلاف کرپشن کا پیسہ مختلف بینک اکاونٹس میں ٹرانزیکشن کے ذریعے سفید دھن میں تبدیل کرنے کاالزام ہے۔
منی لانڈرنگ میں مجموعی طور پر 40 سے زائد بے نامی اکاونٹس کااستعمال کیاگیا ہے جس میں سے فرانزک کے بعد 6 اکاونٹس جعلی ثابت ہوئے۔
ایف آئی اے کے مطابق منی لانڈرنگ کے ذریعے کالے دھن کو سفید دھن میں بدلاگیا۔ کیس میں 100 سے زائد گواہوں کو نامزد کیا گیا۔
تفتیشی حکام نے مونس الٰہی کیخلاف بطور شہادت 9 ہزار دستاویزات کو کیس کا حصہ بنایا ہے جبکہ منی لانڈرنگ مقدمے کے چالان میں 4 ملزموں کونامزد کیا گیا۔
ملزمان میں چوہدری مونس الٰہی ، مظہراحمد، نوازبھٹی اور واجد بھٹی شامل ہیں تاہم چالان میں وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کو نامزد نہیں کیا گیا۔
مونس الٰہی کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم انکشافات








