اسلام آباد: افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرنے والے کسی بھی شخص کو گرفتار کر کے اس کے خلاف “غداری” کا مقدمہ چلائیں گے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وی او اے کو انٹرویو میں یہ وارننگ اُس وقت دی ہے جب سرحد پار دہشت گردانہ حملوں میں حالیہ اضافے میں درجنوں پاکستانی سکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔تازہ ترین حملہ جمعہ کو اس وقت ہوا جب “افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں” نے پاکستانی فوجیوں پر فائرنگ کی، جس میں ایک فوجی شھید ہوا۔ذبیح اللہ مجاہد نے ٹی ٹی پی کے معاملے پر VOA کو بتایا، “جو کوئی بھی یہاں موجود ہے، انہیں ایسی کوئی بھی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کو دھمکی نہیں دیں گے۔” ذبیح اللہ مجاہد نے کہا، “افغانستان اور پاکستان سرحد پہاڑوں اور مُشکل علاقوں سے گزرتی ھے۔ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ہماری افواج کی ابھی تک موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی اِن علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے فضائی صلاحیت ہے۔”ذبیح اللہ مجاہد نے زور دیتے ہوئے کہا، “یہ بہت ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہوں۔ اور اگر ایسا ہے تو، یہ لوگ پہلے افغانستان کے خلاف غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انہیں گرفتار کر کے سزا ملنی چاہیے۔”انہوں نے کہا کہ “ہم اس معاملے پر سنجیدگی سے پرعزم ہیں اور پاکستان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ پاکستان کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو”۔
افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنے والوں کیخلاف غداری کا مقدمہ چلائیں گے ، ذبیح اللہ مجاہد








