بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سابق وزیراعظم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد(ممتازنیوز) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف وسابق وزیراعظم عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف تھانہ مرگلہ پولیس کی درخواست پر وارنٹ گرفتاری سینئر سول جج رانا مجاہد رحیم نے جاری کئے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کیخلاف دفعہ 144 اور دیگر دفعات کے تحت تھانہ مرگلہ میں مقدمہ درج ہے، جس میں دفعہ 506، 504 اور 188، 189 شامل ہیں۔ آج وارنٹ گرفتاری کیلئے درخواست کی گئی تھی جس پر مقامی عدالت نے وارنٹ جاری کئے۔
واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف شہبازگل کی حمایت میں ریلی سے خطاب کے دوران دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔خیال رہے 20 اگست کو عمران خان نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف آئی جی اور ڈی آئی جی اسلام آباد پرکیس کرنےکا اعلان کیا تھا اور دوران خطاب عمران خان نے شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون جج زیبا چودھری کو نام لیکر دھمکی بھی دی تھی۔
تقریر کے اگلے روز عمران خان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کےحکم کے تحت عمران خان کےخلاف کیس سیشن کورٹ منتقل کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
توہین عدالت کیس میں عمران خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیان حلفی جمع کرادیا جس میں سابق وزیراعظم نے عدالت کو آئندہ ایسے بیانات نہ دینے کی یقین دہانی کرادی اور کہا ہے کہ عدالت سمجھے تو معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں۔
عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت کے سامنے جو کہا اس پر مکمل عمل کروں گا، عدالت اپنے اطمینان کے لیے مزید کچھ کہے تو اس حوالے سے مزید اقدام کے لیے بھی تیار ہوں۔
عمران خان نے کہا کہ اگر جج سمجھیں کہ ریڈ لائن کراس کی ہے تو معافی مانگنے پر تیار ہوں، گزشتہ سماعت پر عدالت سے معافی مانگی تھی، 22 ستمبر کو عدالت میں دئیے گئے بیان پر قائم ہوں اور اس پر عمل کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ تقریر میں جج کو دھمکی دینے کا ارادہ نہیں تھا، ایکشن لینے سے مراد لیگل ایکشن کے سوا کچھ نہیں نہیں تھا، 26 سال عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔
عمران خان نے مستقبل میں عدلیہ سے متعلق محتاط رہنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے مزید کہا کہ مستقبل میں ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے عدلیہ کے وقار بالخصوص ماتحت عدلیہ کو نقصان پہنچے۔

ادھر عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد بنی گالا پر چھاپہ مارنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے،اس حوالے سے بنی گالا پولیس کی بھاری نفری طلب بنی گالا جانے والے راستے پولیس نے بند کردئیے گئے ہیں۔

دریں اثنا عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے فوراً بعد ٹوئٹر پر اب کے حامیوں کی جانب سے مختلف ٹرینڈز چلنے شروع ہوگئے ہیں۔ ٹوئٹر پر تیزی سے بننے والے ان ٹریںدز میں عمران خان کی گرفتاری ”سرخ لکیر“ قرار دیتے ہوئے بنی گالہ پہنچنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ٹرینڈ ،نکلو۔بنی۔ گالہ۔ کی طرف میں عمران خان کے حامیوں سے ان کی رہائش گاہ پہنچنے کی اپیل کی گئی ہے۔
عمران خان کی ممکنہ گرفتاری نے میمرز کو بھی متحرک کردیا ہے اور انصافی میمرز کی جانب سے بھی پوسٹس آنا شروع ہوگئی ہیں۔
عمران خان کی گرفتاری کے خلاف اور ان کی حمایت میں شروع ہونے والے ایک اور ٹرینڈ عمران۔ خان۔ ہماری۔ ریڈلائن میں ڈھکے چھپے الفاظ میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
مذکورہ ٹرینڈز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر عمران خان کی ایک تصویر بھی خوب وائرل ہورہی ہے جس میں وہ ایک کتے کو کھانا کھلا رہے ہیں، دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ تصویر جب وارنٹ گرفتاری کے اعلان کے وقت کی ہے۔ یعنی اس تصویر کے زریعے عمران خان کی ممکنہ گھبراہٹ کی تردید کی گئی ہے۔