بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

  آرمی چیف کی تقرری،عمران خان ہوتا کون ہے ہمیں ڈائریکشن دینے والا؟ مولانافضل الرحمان

اسلام آباد(ممتازنیوز)پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہاہے کہ آرمی چیف کی تقرری وزیراعظم کا اختیارہے ،عمران خان ہوتا کون ہے ہمیں ڈائریکشن دینے والا؟ 2018کے الیکشن کے آفٹر شاکس ابھی کے پی ،پنجاب ،جی بی اور کشمیر میں بھگت رہے ہیں،کے پی میں گورنرکی تعیناتی پر اے این پی سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ، تاخیر کیوں ہورہی ہے اس پر ہم بھی پریشان ہیں اور اے این پی والے بھی،اس ماہ پی ڈی ایم کا اجلاس بلایا جائے گا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے مولانافضل الرحمان نے کہاکہ پور ے ملک کے عوام عمران خان کی کارکردگی سے مایوس تھے،عمران خان نے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا ،ہم عدم اعتماد اور اسمبلی کے اندرتبدیلی لانے سے اختلافات رکھتے تھے ، عدم اعتماد میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے ووٹ نہیں لیا۔انہوں نے کہاکہ آڈیولیکس میں عمران کہہ رہاہے کہ ہم نے خط کا استعمال کرنا ہے،عمران خود کچھ نہیں ہے،اس میں صلاحیت ہے نہ پڑھا لکھا ہے،بس سیکھ کر انگریزی بول لیتا ہے،چھکا مارسکتا ہوگاگیندپھینک سکتا ہوگا اس کے علاوہ کچھ نہیں ،جن قوتوں نے اسے یہاں تک پہنچایاہے،ان کے ایجنڈے ہیں انہیں ہم نے ناکام بنایا ہے، اسلام ہو،ریاست مدینہ ہو،اینٹی ایمپریل ازم ہواس پر ہمارکاز ہے،یہ آدمی یہ ان تمام چیزوں کو بطورکارڈ استعمال کررہا ہے اور کارڈ تو دو دن میں ختم ہوجاتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ بین الاقوامی استعمارکے خلاف قوم کو جمعیت علما اسلام نے بیدار کیا،اگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہوئی تو اس اگر کسی نے روکا ہے تو وہ جمعیت ہی ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران کی اسلام فوبیاکے باتیں سب نمائشیں تھیں،اسے یہودیوں اور بھارتیوں نے فنڈنگ کی ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ تمام چیزیں سامنے آگئی ہیں آج بچے بچے کی زبان پر ہے کہ یہ بیرونی ایجنٹ ہےاور بیرونی ایجنڈے پر پاکستان بھیجاگیا ہے،پانامہ کے ذریعے سیاسی عدم استحکام لایاگیا پھر عمران خان کے ذریعے معاشی عدم استحکام لایاگیا،عمران نے سی پیک کےمنصوبوں کو منجمدکرکے امریکہ کی خدمت کی ۔امریکی صدربائیڈن کے عمران خان کو فون نہ کرنےاور شہبازشریف نے ملاقات سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ یہ سیاسی معاملات ہیں، ان کا تعلق امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات سے ہے،عمران خان نے بائیڈن کے خلاف ٹرمپ کو سپورٹ کیا تھا یہ سب اس کا ردعمل تھا۔انہوں نے کہاکہ ایک میاں بیوں کو لمبے عرصے تک کیوں وزیراعظم ہاوس میں حبس بے جامیں رکھاگیا کیا یہ ریاست مدینہ ہے۔ بڑی کابینہ سے متعلق جے یو آئی کے سربراہ نے کہاکہ اتحاد میں جتنی جماعتیں شامل ہوتی ہیں سب کوحکومت میں شامل کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کے پی میں گور نرکی عدم تعیناتی سے نقصان ہورہاہے، اے این پی اور ہمارے درمیان اس بارے میں اختلافات کوئی نہیں کہاں الجھن ہے اس پر وہ بھی پریشان ہیں اور ہم بھی پریشان ہیں ،تاہم ہمارا اصرار ہے جے یو آئی کا حق ہے،بلوچستان میں کیا مسئلہ ہے مجھے نہیں معلوم ،گورنرز کی تعیناتی میں کیوں تاخیر ہورہی ہے ؟ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف کی تعیناتی آئین کے مطابق اور میرٹ پر ہوگی وہ منصب کرے گا جس کا اختیار ہے،وزیراعظم کا اختیار ہے ۔ عمران خان کون ہوتا ہے ہمیں ڈائریکشن دینے والا،جب وہ وزیراعظم تھا تو کیا اس نے اپنی کابینہ سے پوچھاتھا بلکہ ڈرافٹ بھی غلط بنادیا تھا جس سے معاملہ دو چاردن کے لئے لٹک گیا تھا۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ سرکاری افسرمیرا توسیع کے ریٹائرمنٹ چلتے رہتے ہیں ان کو سیاسی مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ یہ جو دھچکے ہیں 2018کے الیکشن کے آفٹر شاکس ہیں یہ آفٹرشاکس ہم کے پی ،پنجاب ،جی بی اور کشمیر میں بھگت رہے ہیں۔