سوشل میڈیا سائٹس پر کل سہ پہر سے ایک ویڈیو وائرل ہے جسے دیکھ کر صارفین طیش میں آ گئے ہیں۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو میں ایک بزرگ شہری کو چارپائی کے ساتھ باندھ کر نامعلوم افراد کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
اے خدائے لم يزل تو نے ہمیں
کن خداؤں کے حوالے کر دیا !ڈاکٹر ساجد رحیم #humanity #HumanRightsWatch pic.twitter.com/AxEVCHM4ka
— Dr.Sajid Rahim (@DrSajidRahim) October 3, 2022
یہ وائرل ویڈیو نجی ٹی وی چینل کے نامور صحافی کے جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی شیئر کی گئی اور ٹوئٹ کے کیپشن میں دعویٰ کیا گیا کہ اس بزرگ شہری نے سندھ حکومت کے خلاف بیان دیا تھا کہ ہمیں امداد نہیں مل رہی، صحافی کے جعلی اکاؤنٹ نے انسانیت کے ناطے اس بزرگ کی مدد کی اپیل بھی کی۔
اس ویڈیو کو اب وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جانب سے شیئر کیا گیا ہے۔
ناصر حسین شاہ کا اپنے ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ ٹھیک ہے آپ کو ہماری شکلیں اچھی نہیں لگتی نام بھی اچھے نہیں لگتے، ڈر کر معافی مانگنے کے بجاۓ سولی پر چڑھ جانا بھی اچھا نہیں لگتا مگر سچ تو بولیں۔
ٹھیک ہے آپکو ہماری شکلیں اچھی نہیں لگتی نام بھی اچھے نہیں لگتے ڈر کر معافی مانگنے کے بجاۓ سولی پر چڑھ جانا بھی اچھا نہیں لگتا مگر سچ تو بولیں۔ یہ بورے والا پنجاب ہے اور آپ کے چہیتوں کے دور میں جب اس بزرگ پر ایک الزام کے بعد تشدد کیا گیا۔ آپ کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہمیں ہرا نہیں سکتا pic.twitter.com/eIY46YSGqG
— Syed Nasir Hussain Shah (@SyedNasirHShah) October 3, 2022
ناصر حسین شاہ کا مزید لکھنا ہے کہ یہ ویڈیو بورے والا پنجاب کی ہے اور اس وقت کی ہے جب آپ کے چہیتوں کے دور میں جب اس بزرگ پر ایک الزام کے بعد تشدد کیا گیا، آپ کا جھوٹا پروپیگنڈہ ہمیں ہرا نہیں سکتا۔
A tweet by a well known journalist who now works for Bol TV and by several other journalists claiming that an old man had been physically assaulted for speaking against the Bhuttos in Sindh actually is a video from Punjab of an alleged child molester – caught by villagers pic.twitter.com/y3N0D6iYAP
— FactCheckPakistan (@PakistanCheck) October 3, 2022









