لاہور(ممتازنیوز)مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ یہ پہلاشخص ہے جس نے نیوٹرلز کو گالی بنادیا اور ایسا اس لئے کیاکہ اس کی نیپیزبدلنے سے انکار کردیاگیاتھا۔پاسپورٹ واپس ملنے کے بعد پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ انہیں نیب کی نئی ترامیم سے نہیں پرانے قانون کے تحت میرٹ پر ریلیف ملا۔ انہوں نے کہا کہ 3 سال پہلے جس ریفرنس کی آڑ میں میرا پاسپورٹ اور 7 کروڑ روپے کی زرضمانت رکھوائی گئی وہ کیس اب بھی نہیں بنا،مجھے خوشی ہے کہ مجھے اپنا پاسپورٹ واپس مل گیا، سوال اٹھتا ہے کہ مجھے 3 سال میرے حق سے محروم کیوں رکھا گیا؟۔مریم نواز نے کہا کہ پاناما کیس 2016 میں بنا تھا، 6 سال ایک جھوٹا مقدمہ بنا، پاناما میں بھی مجھے بریت ملی مگر 6 سال مقدمہ بھگتا، سوال یہ ہے کہ 6 سال قبل وہ مقدمہ بنایاہی کیوں گیا؟، 6 سال تک یہ نواز شریف کی جائیداد ثابت کرنے میں ناکام رہے، ساراکھیل عمران خان کے الیکشن جیتنے کے لئے کھیلا گیا۔ عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کہتے ہیں اسحاق ڈار این آراو کے تحت واپس آئے ہیں، اسحاق ڈار کو واپس تو آنا تھا سوال یہ ہے ان کو جانا کیوں پڑا؟، ان کی میٹنگز میں بات ہورہی ہے کہ اسحاق ڈار واپس آگئے ڈالر نیچے آرہا ہے، انہیں معلوم ہے معیشت بہتر ہوگئی تو ان کو کون پوچھے گا۔ این آر او تو یہ ہوتا ہے کہ جس دن انہیں پنجاب حکومت ملی فرح گوگی کے کیسز ختم کیے،فرح خان کو جہاز میں بٹھا کر راتوں رات فرار کروایا گیا، این آراوعلیمہ باجی کو ملا جس نےاس کا اقرار بھی کیا۔مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے کہا اگر مریم خاتون نہ ہوتی تو جیل میں ہوتی، تمہارے دور میں مریم جیل تھی، تم خاتون پر بات کرنے کے قابل بھی نہیں، مریم تب بھی عورت تھی جب نیب کے حبس بےجا میں رکھا، میں نے نیب کے پتھر بھی کھائے تب بھی میں خاتون تھی، تم تو خواتین کے بارے میں بات کرنے کے قابل بھی نہیں، کیا خاتون صرف وہی ہے جو بنی گالہ میں بیٹھی ہے۔ رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ عمران خان نے خاتون جج کو بھی للکارا کہا تمہیں بھی ہم نہیں چھوڑیں گے، جسٹس اطہرمن اللہ نے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور اس کو معاف کیا، جب گردن پھنستی ہوئی نظر آتی ہے تو معافیاں مانگتے ہیں، اس شیطان کو معافی ملنے کا مطلب وہ اور زیادہ بہادر ہوگیا، عدلیہ سے ادب سے کہتی ہوں ایسے شخص کو معاف نہیں کیا جاتا۔
قبل ازیں مریم نواز نے ڈپٹی رجسٹرار محمدمقصود سے اپنا پاسپورٹ واپس لیا۔مریم نواز نے اپنے وکیل امجد پرویز کےہمراہ قانونی دستاویزات پردستخط کئے۔عدالت نے مریم نواز کی درخواست منظور کرتے ہوئےپاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔عدالتی حکم پرمریم نواز نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کےپاس اپنا پاسپورٹ جمع کرایا تھا۔
سائیفر سے متعلق مریم نواز نے کہا کہ عمران خان سے جب سائیفر کے بارے میں پوچھا گیا تو کہاں کہ گم ہوگیا ہے، ریاست کی دستاویز کوغائب کیا یہ بھی ایک الزام ہے، اس سے بھی زیادہ سنگین یہ ہے کہ سائیفر کے منٹس تبدیل کیے، بین الاقوامی دنیا آج پاکستان کو سائیفر بھیجھنے سے ڈرتی ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ سائیفر کو کہیں سازش کا حصہ نہ بنا دیا جائے۔
مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کا راستہ صاف ہے اب عدالت میں صرف ایک درخواست دینی ہے ، نواز شریف جلد واپس آئیں گے، وقت کا فیصلہ وہ خود کریں گے.
مریم نواز نے کہا کہ لیول پلئینگ فیلڈ تو ہمیں حکومت میں رہتے ہوئے ابھی بھی نہیں ملی، ”لیول پلیئنگ فیلڈ“ صرف تب ہوگی جب انصاف ہوگا، لیول پلئینگ فیلڈ تو اس وقت ہوگیکہ جو کچھ نواز شریف کو بھگتنا پڑا اسے بھی بھگتنا پڑے۔









