اسلام آباد(ممتاز نیوز) سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہائوس میں ان سے ملاقات کے دوران مریم نواز کے حوالے سے انتہائی غلیظ لفظ استعمال کیا تھا جس پر مجھے آگیا اور ان کو کھری کھری سنا دیں ،میری حالت کو دیکھتے ہوئے اعظم خان مجھے اپنے آفس میں لے گئے اور باتھ روم میں لے جا کر دروازہ بند کیا اور کہا کہ یہ کیا کر رہے ہیں درود شریف پڑھیں ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بشیر میمن نے کہا کہ مجھے وزیراعظم ہائوس کے باتھ روم میں بند نہیں کیا گیا تھا معلوم نہیں ہیکرنے یہ بات کہاں سے نکالی ۔انہوں نے کہا کہ مجھے سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان ہی ان کے پاس لے کر گئے تھے ،وزیراعظم نے خواجہ آصف کے کیس کے سلسلے میں بات کی ،ان پر آرٹیکل 6 لگوانا تھا جس پر میں نے کہا کہ یہ کیس نہیں بنتا،صرف لوگوں کو پکڑنا نہیں ہوتا عدالت میں جا کر ثابت بھی کرنا ہوتا ہے، اس کے بعد عمران خان نے ایک دم سے مریم نواز کے حوالے سے بات کی اور انتہائی غلیظ قسم کا لفظ استعمال کیا جو میں دہرا نہیں سکتا ۔بشیر میمن نے کہا کہ مریم نواز کے حوالے سے نامناسب لفظ سن کر مجھے غصہ آگیا اور میں نے اس پر شور کردیا حالانکہ میں ٹھنڈے مزاج کا آدمی ہوں،میری آواز بلند ہوتی جا رہی تھی ،مجھے حیرت تھی کہ ایک ایسا آدمی جو ایک خاتون کےلئے اتنے برے لفظ استعمال کرتا ہے وہ ہمارا وزیراعظم ہے ، میں نے سابق وزیراعظم عمران خان کو کہا کہ تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کریں ،میرے غصے کو دیکھتے ہوئے اعظم خان نے میرے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا کہ سر آجائیں چھوڑیں ۔بشیر میمن نے کہا کہ میرا غصہ ختم نہیں ہورہا تھا،اعظم خان مجھے اپنے آفس لے کر گئے وہاں پر بھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے جس پر اعظم خان نے اپنے باتھ روم میں لے جا کر دروازہ بند کیا اور کہا کہ درود شریف پڑھیں آپ کیا کر رہے ہیں ۔بشیر میمن نے کہا کہ میں ہیکر سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ جو غلط باتیں میں نے کیں اگر وہ سامنے لائیں تو برائے مہربانی بیپ چلا دیجئے گا تا کہ میرے بچے نہ سن لیں ۔انہوں نے کہا کہ میں پولیس افسر ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ کون کتنا دلیر ہے ، عمران خان اب حکومت کے ساتھ جہاد کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ سیلاب زدگان کےلئے جہاد کریں ۔سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ آڈیو لیکس کی انکوائری ہونی چاہیے یہ کون لیک کر رہا ہے ،ایک سابق وزیراعظم نے ایک جلسے میں کہا کہ فلاں لیک آنے والی ہے اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ہی کروائی ہے اور اس کے مرکزی ملزم بھی وہی بنتے ہیں جبکہ فواد چودھری جن کا کہنا ہے کہ ہیکر یہ آڈیو لیکس بیچ رہا ہے اس کا مطلب ہے کہ انہیں سب پتہ ہے ۔








