وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ فی الحال غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی گنجائش نہیں ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موڈیز ریٹنگ ایجنسی نے چند خدشات کی بنیاد پر ہماری ریٹنگ کم کر کے زیادتی کی ہے، انہیں خدشہ تھا کہ ہم اپنے قرضے ری شیڈول کرانے پیرس کلب جائیں گے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمارا لندن یا پیرس کلب جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لندن کلب اور پیرس کلب جانے سے اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنے بانڈز کی میچورٹی کی تاریخ بڑھانے کا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا اگلے بارہ ماہ کے دوران بائیس ارب ڈالر کے بیرونی واجبات ادا کرنے ہیں اور بارہ تیرہ ارب ڈالر کا ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے، یوں ہمیں ایک سال میں چونتیس پینتیس ارب ڈالر کی فنانسنگ کرنی ہے، انشاءاللہ اس کا بندوبست ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر 200 سے کم ہوگا، یہ ہفتوں کی نہیں دنوں کی بات ہے، ڈالر کی اصل قدر وہ نہیں، جس پر وہ پاکستان میں فروخت ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج مارکیٹ میں لوگ 219 روپے میں ڈالر بیچنے جائیں تو انہیں 10 روپے کم میں مل رہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے کمی کی سمری میرے پاس آئی تھی مگر میں نے پٹرول پر ڈویلپمنٹ لیوی بھی کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے محصولات میں کمی ہو گی اور آئی ایم ایف کو بھی مطمئن کرنا ہوگا مگر میرے پاس آئی ایم ایف کو دینے کیلئے دو تین جواب موجود ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی فی الحال گنجائش نہیں ہے۔









